اسلام آباد: ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس میں حفاظتی انتظامات مضبوط بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس کے ساتھ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ہائیکورٹ بار کے صدر واجد گیلانی نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ ڈی آئی جی سکیورٹی اور اے آئی جی اسپیشل برانچ نے انتظامات پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں طے پایا کہ داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور اسکینرز نصب کیے جائیں گے تاکہ سائلین کے سامان کی سکیورٹی کلیئرنس کے بعد کمپلیکس میں داخلہ ممکن ہو۔ داخلی دروازے کے ساتھ زگ زیگ گرلز لگائی جائیں گی اور کمپلیکس کی چھتوں پر اسنائپرز تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وکلا اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے فرضی مشق اور تربیت کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فون کے غیر ضروری استعمال پر پابندی ہوگی۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کمپلیکس کے باہر ایمبولینس مستقل طور پر تعینات کی جائے گی تاکہ سائلین، وکلا اور ججز کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔