data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ واقعات سے متعلق مقدمات میں گرفتار پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے آخری موقع فراہم کر دیا ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے سماعت کے دوران پراسیکیوشن کے نمائندوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر مقدمات کا ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو عدالت دستیاب معلومات کی بنیاد پر خود فیصلہ سنا دے گی۔

سماعت کے آغاز پر پراسیکیوشن کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ متعلقہ افسران ایک اہم میٹنگ میں مصروف ہیں، اس لیے ریکارڈ پیش کرنا اور دلائل دینا ممکن نہیں۔ عدالت نے پراسیکیوشن کے اس رویے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی نوعیت سنگین ہے، اس لیے ذمہ داری سے کام کرنا ضروری ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دفاع نے اپنی تمام ضمانت درخواستوں پر دلائل مکمل کر دیے ہیں اور اس ضمن میں عدالتی فیصلوں کی نقول بھی پیش کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پراسیکیوشن کی تاخیر کے باعث ضمانتوں پر فیصلہ مؤخر ہو رہا ہے، جو انصاف کے عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔

مقدمات کے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف لاہور کے مختلف علاقوں  مغلپورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب پیش آنے والے پرتشدد واقعات  کے حوالے سے 4 مقدمات درج ہیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام مطلوبہ دستاویزات آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یاسمین راشد ریکارڈ پیش عدالت نے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور