یاسمین راشد ضمانت: 9 مئی کیسز میں ریکارڈ پیش نہ ہوا تو فیصلہ سنایا جائے گا، انسداد دہشتگردی عدالت
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ واقعات سے متعلق مقدمات میں گرفتار پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے آخری موقع فراہم کر دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے سماعت کے دوران پراسیکیوشن کے نمائندوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر مقدمات کا ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو عدالت دستیاب معلومات کی بنیاد پر خود فیصلہ سنا دے گی۔
سماعت کے آغاز پر پراسیکیوشن کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ متعلقہ افسران ایک اہم میٹنگ میں مصروف ہیں، اس لیے ریکارڈ پیش کرنا اور دلائل دینا ممکن نہیں۔ عدالت نے پراسیکیوشن کے اس رویے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی نوعیت سنگین ہے، اس لیے ذمہ داری سے کام کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دفاع نے اپنی تمام ضمانت درخواستوں پر دلائل مکمل کر دیے ہیں اور اس ضمن میں عدالتی فیصلوں کی نقول بھی پیش کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پراسیکیوشن کی تاخیر کے باعث ضمانتوں پر فیصلہ مؤخر ہو رہا ہے، جو انصاف کے عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔
مقدمات کے ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف لاہور کے مختلف علاقوں مغلپورہ، زمان پارک اور جناح ہاؤس کے قریب پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے حوالے سے 4 مقدمات درج ہیں۔
عدالت نے کیس کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام مطلوبہ دستاویزات آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یاسمین راشد ریکارڈ پیش عدالت نے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔