Jasarat News:
2026-07-24@06:35:56 GMT

خدارا ملک و قوم پر رحم کرو!

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251113-03-4
آئین کی 27 ویں ترمیم وفاقی کابینہ اور سینیٹ کی منظوری کے بعد قوم کے سامنے پردہ اسکرین پر آگئی، قوی امکان ہے کہ سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی بھی اس کو پاس کرکے ایوانوں کے گیٹ پاس نمبر 47 کے تحت امتحان میں سرخ رو ہو گی۔ کچھ کہتے ہیں کہ ان کو لایا ہی اس لیے گیا تھا کہ 26 اور 27 ترامیم بعد ازاں 28 ویں ترمیم کے ذریعے مرحلہ وار وہ سب کچھ ان کے ہاتھوں سے کرالیا جائے کہ نہ خنجر پر کوئی داغ لگے نہ دامن پر کوئی چھینٹ اور کرامات وقوع پزیر ہو جائے اور من کی مراد پوری ہو جائے۔ اب انگوٹھا کہاں لگانا والے دیر نہ کریں گے اور کچھ محروم التفات رو پیٹ کر اور کچھ چندہ لے کر کہیں گے اللہ کی مرضی وہ ہی کچھ کرے۔ 27 ویں ترمیم کے ذریعہ جو استثنیٰ دیا گیا ہے کیا اسلامی جمہوری پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے اس کی شریعت میں اس کھلی چھوٹ کی تادم حیات مرحمت فرمانے کی اجازت ہے تو دو ٹوک جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ تعلیمات شریعت میں تو یہ آتا ہے کہ ایک بااثر عورت کی جو چوری کی مرتکب ہوئی اور قطع ید کی سزا وار ٹھیری کی سفارش آپؐ کے حضور پیش ہوئی تو آپؐ سخت نارض ہوئے اور آپؐ نے فرمایا میری لخت جگر فاطمہؓ بھی چوری کرے گی تو اس کابھی ہاتھ کاٹا جائے گا اور پچھلی اُمتیں اس وجہ سے بھی تباہ ہوئیں کہ وہاں قانون کی دو رنگی تھی بااثر کو چھوٹ اور بے اثر کی پکڑ تھی؛ کیا پاکستان اس ایام جاہلیت کی تباہی کی طرف گامزن کرنے والی یہ ترمیم نہ سمجھی جائے تو اور کیا سمجھا جائے؟ کہ جو تم نے اچھا برا کیا عدالت کا تم سے کچھ لینا دینا نہیں روز محشر کو حساب دے دینا۔

مجھے میان طفیل محمد مرحوم ومغفور کی بات یاد آرہی ہے جو انہوں نے 1994 میں حکومت کے چلن دیکھ کر معروف صحافی محمد صلاح الدین کی شہادت کے موقع پر ان کی دختر سعدیہ کو پرسہ کے خط میں لکھی تھی کہ بیٹی انصاف روز محشر کو ہی ملے گا۔ اب اس آئینی ترمیم سے حکمران کو استثنیٰ اس نا انصافی کی دستوری صورت ہی تو ہے۔ اسلام کی تاریخ میں تو یہ واقعہ آتا ہے کہ سیدنا عمرؓ کے دور خلافت میں انہوں نے مسجد نبوی سے ملحق ایک گھر کا پرنالہ جس کا پانی مسجد نبوی میں گرتا تھا ہٹا دیا صاحب مکان کو خبر ہوئی تو وہ عدالت میں قاضی کے پاس فریادی ہوئے اور مدعا رکھا کہ یہ پرنالہ نبی اکرمؐ نے میرے کندھے پر سوار ہوکر خود نصب کیا جو امیر المومنین سیدنا عمرؓ نے ہٹا دیا، مجھے انصاف درکار ہے۔ عدالت نے سائل صحابی کو گواہ لانے اور سیدنا عمرؓ کو عدالت میں حاضر ہونے کاحکم دیا۔ خلیفہ وقت امیر المومنین عدالت میں حاضر ہوئے ان کو کوئی استثنیٰ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کوئی سرکاری پروٹوکول بھی کچھ نہیں سائل نے دو گواہ عدالت میں پیش کیے جنہوں نے چشم دید گواہی دی کہ نبی کریمؐ نے یہ پرنالہ خود سائل کے کندھوں پر سوار ہوکر نصب کیا تھا۔ عدالت نے گواہی کے بعد تاریخی فیصلہ دیا کہ پرنالہ وہیں اسی مقام پر لگانے کا سیدنا عمر کو حکم دیا چشم فلک نے دیکھا کہ امیر المومنین سیدنا عمر نیچے کھڑے ہیں اور صاحب مکان ان کے کندھے پر چڑھ کر پر نالہ وہیں دوبارہ نصب کر رہے ہیں اس سے فراغت کے بعدوہ نیچے اترے اور انہوں نے اپنا مکان مسجد نبوی کے لیے وقف کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ میرا مقصد یہ تھا کہ انصاف کے معاملہ میں کسی کو استثنیٰ نہیں سب برابر ہیں۔ ان ہی اسلامی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانیہ کے حکمران چرچل نے جنگ عظیم کی تباہی کے بعد کہا تھا کہ ہماری عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو ہم پھر دوبارہ کھڑے ہو جائیں گے پاکستان میں اصلی اور نقلی حکمران کو استثنیٰ کی آئینی ترمیم ایسی ہے جس کو دیکھ کر شرمائیں یہود وہنود۔

27 ویں ترمیم نے عدل بھی کریا کرم کردیا ہے اور عدالت کو ماتحت بنانے کا کام کر ڈالا ہے جو موافق نہ ہو اس کو کالا پانی کی سزا دے دو نہ جائے تو گھر بجھوا دو سیاست دان سے لے کر قانون دان سب سراپا احتجاج ہیں کہ کس تباہی کا سامان کر نے چلے ہو کچھ تو خیال کرو۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ حافظ نعیم الرحمن نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان ترامیم کو غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور قانون عدل کی بیخ کنی قرار دیا تو مولانا فضل الرحمن روٹھ کر غیر ملکی دورے پر روانہ ہوگئے، احتجاج شروع ہو گئے ہیں ملک کی دوطرفہ سرحدوں کی سنگینی اور ملک کی بد امنی کوئی نیک شگون ہر گز نہیں خدا را ملک اور قوم پر رحم کرو۔

عبدالتواب شیخ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ویں ترمیم عدالت میں کے بعد

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن