پاکستان تحریکِ انصاف بلوچستان نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ریلوے ہاکی گراؤنڈ میں آج ہونے والا جلسہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

یہ فیصلہ پارٹی کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جو صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں صوبائی سینئر نائب صدر سید صادق آغا، صوبائی نائب صدر نواب خان دمڑ سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے داود شاہ کاکڑ نے کہا کہ شہر بھر کو کنٹینرز اور ٹرکوں کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے، جس سے کارکنان اور شہریوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔

ان کے مطابق انتظامیہ حالات کو کشیدہ بنا کر 26 نومبر جیسے واقعات دہرانا چاہتی ہے۔

داود شاہ کا کہنا تھا کہ ریلوے ہاکی گراؤنڈ کو پانی سے بھر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے جلسہ وہاں ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے کارکنان پرامن ہیں، مگر حکومت جان بوجھ کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اسی لیے جلسہ منسوخ کیا گیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے وضاحت کی کہ جلسہ ملتوی کیا گیا ہے، منسوخ نہیں، اور جلد ہی نئے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔

سیکیورٹی خدشات اور عوامی مشکلات

ضلعی انتظامیہ کے مطابق، پی ٹی آئی اور تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے جلسوں کے باعث سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہر کے مختلف راستے بند کیے گئے تھے، جبکہ صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

اس صورتِ حال کے باعث کوئٹہ میں ٹریفک کی روانی متاثر رہی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی جلسہ منسوخ کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کوئٹہ

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار