سندھ رینجرز کی کارروائی: خیبرپختونخوا حملے میں ملوث ملزم کراچی سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کے دوران سندھ رینجرز نے ایک ’انتہائی مطلوب‘ دہشتگرد کو گرفتار کر لیا ہے۔
جمعرات کو سندھ رینجرز کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت دوست محمد ولد گل فراز خان کے نام سے ہوئی ہے، جو باجوڑ کا رہائشی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نومبر 2020 میں ہونے والے ایک دہشتگرد حملے میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ملوث تھا۔
ترجمان کے مطابق ملزم نے دیگر فتنہ الخوارج دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے علاقے ناوگئی میں اسسٹنٹ کمشنر پر فائرنگ کی اور سرکاری مشینری کو آگ لگا دی تھی۔
اس واقعے کا مقدمہ مالاکنڈ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پولیس اسٹیشن میں دہشت گردی کی سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کے بعد ملزم کراچی میں روپوش ہو گیا تھا اور اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر حساس مقامات پر دہشتگردی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
ترجمان کے مطابق دیگر مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی پولیس خیبرپختونخوا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سندھ رینجرز کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کی موجودگی کی اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 9001111-0347 پر دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاع دینے والے کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹیلیجنس خیبرپختونخوا دہشتگرد رینجرز سندھ سی ٹی ڈی کراچی گلستان جوہر مالاکنڈ مددگار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹیلیجنس خیبرپختونخوا دہشتگرد سی ٹی ڈی کراچی گلستان جوہر مالاکنڈ مددگار
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔