نام نہاد شائننگ انڈیا کی اے آئی سمٹ عالمی سطح پر رسوائی کی علامت بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
نئی دہلی میں منعقدہ مرکزی اے آئی سمٹ کے دوران ایک بھارتی نجی یونیورسٹی کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس کی ایک پروفیسر نے چینی ساختہ روبوٹک ڈاگ کو اپنی یونیورسٹی کی تخلیق قرار دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس واقعے کے بعد گالگوشیا یونیورسٹی کو اے آئی سمٹ میں اپنا اسٹال ختم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یونیورسٹی کی پروفیسر نے سمٹ کے دوران چینی کمپنی کا تیار کردہ روبوٹک ڈاگ اپنی ایجاد کے طور پر پیش کیا تھا۔
مزید پڑھیںمحمد یونس نے الوداعی تقریر میں بھارت کی دھجیاں اُڑا دیں؛ مودی کو آئینہ دکھا دیا
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور بھارت کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں یونیورسٹی نے وضاحت جاری کی۔
رپورٹس کے مطابق سمٹ کے دوران بدانتظامی، سست رفتار انٹرنیٹ اور بعض اسٹالز سے اشیاء کی چوری جیسے واقعات بھی سامنے آئے، جس پر انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے بھارت کے ٹیکنالوجی اور جدت سے متعلق بیانیے، خصوصاً میک ان انڈیا مہم، پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔