ناکام ورلڈ کپ مہم پر پونٹنگ نے آسٹریلوی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
آئی سی سی ہال آف فیم کرکٹر رکی پونٹنگ نے آسٹریلیا کی ’’انتہائی خراب‘‘ مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے صرف 3 میچز میں سے ایک جیتا اور سپر ایٹ فیز تک پہنچنے کے امکانات ختم ہوئے۔
سابق آسٹریلوی کپتان نے انجرڈ کھلاڑیوں اور ابتدائی ناقص کارکردگی کو ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
پونٹنگ نے کہا کہ زمبابوے کے خلاف غیر متوقع شکست اور سری لنکا کے خلاف میچ میں آخری اوورز میں چھ وکٹیں گرنا ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
مزید پڑھیںٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سری لنکا نے آسٹریلیا کو 8 وکٹوں سے شکست دیدی
انہوں نے حالیہ ٹیم کے مقابلے میں ماضی کی آسٹریلوی ٹیموں میں ’’رویہ اور تجربے‘‘ کی کمی کی نشاندہی بھی کی۔
مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگلے ٹی20 ورلڈ کپ 2028 میں چند موجودہ کھلاڑی جیسے مِچل مارش، ٹریوس ہیڈ اور جاش انگلس شامل ہو سکتے ہیں جبکہ گلین میکسویل اور مارکس اسٹوئنس کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔
رکی پونٹنگ کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ٹرافیاں جیتنا کسی بھی آسٹریلوی کرکٹر کے لیے اعلیٰ ترین مقصد ہونا چاہیے اور موجودہ ٹیم کو اپنی غلطیوں کا سامنا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کامیابی حاصل کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا سٹریلوی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔