پاک فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پاک فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں مقامی افراد کیلئے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔
کیمپ میں شہریوں کو گائناکالوجسٹ ،سرجن، میڈیکل اسپیشلسٹ اور چائلڈ اسپیشلسٹ کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ پاک فوج کے فری میڈیکل کیمپ میں مقامی شہری ایکسرے اور لیب جیسی جدید سہولیات سے بھی مستفید ہوئے۔
میڈیکل کیمپ میں آرمی ڈاکٹرز سمیت ماہر ہیلتھ سٹاف پر مشتمل ٹیمیوں نے مقامی شہریوں کا معائنہ کیا۔ کیمپ میں تقریباََ 150 بچوں سمیت 700 سے زائد افراد کو مفت چیک کیساتھ ساتھ ادویات بھی فراہم کی گئیں۔
شمالی وزیرستان کے شہریوں نے فری میڈیکل کیمپ پر پاک فوج کا بھر پور شکریہ ادا کیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ؛ دوردراز علاقوں میں پاک فوج کے فری میڈیکل کیمپ کا قیام ایک نعمت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فری میڈیکل کیمپ کیمپ میں پاک فوج
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔