بلوچستان کے مسئلے کے حل میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں، علماء
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علماء نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے شفاف انتخابات، وسائل میں حق، تعلیم، رروزگار کے مواقعوں کی فراہمی، جبری گمشدگیوں کا حل اور علماء و معتبر شخصیات پر مشتمل مصالحتی کونسل کے قیام کی تجویز دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے جید علماء کرام مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن، علامہ محمد جمعہ اسدی، مولانا انوارالحق حقانی، قاری عبدالرحمٰن نورزئی اور دیگر نے کہا ہے کہ بندوق کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بلوچستان میں جاری بدامنی کے خاتمے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں علماء کرام اور مشائخ اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ حکومت تمام لاپتہ افراد کی شفاف تحقیقات کرائے اگر کسی پر جرم ثابت ہوتا ہے تو اسکا مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے۔ گوادر سی پیک اور معدنی منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار اور شراکت دی جائے، تاکہ نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی اور بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔ یہ بات انہوں نے آج کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں "بلوچستان میں قیام امن اوراعتماد سازی کی اہم امید علماء و مشائخ کی منصبی ذمہ داریوں" کے عنوان سے منعقدہ سیمینار کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں غیر ملکی مداخلت کو ایک بہت بڑ سبب سمجھتے ہیں۔ اسرائیل، بھارت، یورپ اور امریکہ پاکستان، افغانستان اور ایران میں جنگ کروانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں چاہتے۔ وہ ہمارے درمیان اختلافات، نفرت، بدگمانی، عداوت پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے درمیان اسلام کی بنیاد پر کوئی اتحاد نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شورش اس لئے برپا کی گئی ہے کیونکہ پاکستان اسلامی عالمی اتحاد میں بنایدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے اسلامی کردار کو روکنے کیلئے سازشیں ہو رہی ہیں۔ ان ساری سازشوں کی بنیاد کانسپیریسی تھیوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2006 میں پاکستان کے سابق وزیر دفاع اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت نے بلوچستان کو ایک ایسی خونی دلدل میں دھکیل دیا جس کے بھیانک نتائج آج بھی سب کے سامنے ہیں۔ آج بلوچستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جس میں ایک راستہ مکمل آزادی کی طرف جاتا ہے تو دوسرا راستہ بنیادی حقوق کے حصول کی جانب جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کی بجائے انصاف، مکالمے، ثالثی اور اسلامی اصولوں کے مطابق مصالحت میں ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں فریقین کے درمیان صلح کرانے کو دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے سیمینار نے بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے صوبے میں صاف و شفاف انتخابات، مقامی آبادی کو وسائل میں حق دینے، تعلیم، رروزگار کے مواقعوں کی فراہمی، سرحدی تجارت کے منظم راستے، منشیات و ٹرالر مافیا کا خاتمہ، جبری گمشدگیوں کا حل اور علماء و معتبر شخصیات پر مشتمل مصالحتی کونسل کے قیام کی تجویز دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی ترقی پر خرچ کیا جائے۔ گوادر سی پیک اور معدنی منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار اور شراکت دی جائے۔ تمام لاپتہ افراد کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اگر کسی پر جرم ثابت ہوتا ہے تو کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور بے گناہ افراد کوفوری طور پر رہا کیا جائے۔ انسانی حقوق کمیشن کو با اختیار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکار ہوکر شدت پسندی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، جس کے خاتمے کیلئے انہیں فنی و تکنیکی تعلیم فراہم اور مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے۔ سرکاری و نجی شعبے میں بلوچستان کیلئے خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر مقامی محرومیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس کے خاتمے کیلئے سرحدی نگرانی مضبوط کی جائے۔ مقامی آبادی کو اعتماد میں لیکر انٹیلی جنس نظام بہتر بنایا جائے۔ عوام کو ریاست کا شراکت دار بنایا جائے اور مشکوک نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے بلوچستان کے جید علماء کرام اور مشائخ اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اگر علماء کرام کو کوئی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو اسے احسن طریقے سے نبھائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان کے مسئلے کے حل انہوں نے کہا کہ علماء کرام کرنے کی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔