کوئٹہ(نیوز ڈیسک) کوئٹہ کے علاقے درخشاں میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں 8 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، مقابلے کے دوران سی ٹی ڈی کے تین اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی کیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک مبینہ دہشت گردوں کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے بتایا جا رہا ہے، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ کے علاقے درخشاں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی بلوچستان کو خراج تحسین پیش کیا اور 8 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سی ٹی ڈی کی پیشہ وارانہ مہارت اور بہادری کو سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی بلوچستان نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، بلوچستان میں قیام امن کیلئے سی ٹی ڈی کی کامیابیوں کو ستائش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے 3 اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لئے دعا بھی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب