ہر سال 24 جولائی کو دنیا بھر میں سیلف کیئر ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا روزمرہ کی دیگر ذمے داریوں کو نبھانا۔ اس تاریخ کا انتخاب بھی ایک خاص پیغام دیتا ہے کہ انسان کو اپنی دیکھ بھال دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن معمول کا حصہ بنانی چاہیے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق خود سے محبت اور اپنی ضروریات کو نظرانداز نہ کرنا ایک صحت مند اور متوازن زندگی کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ہر روز اپنی صحت پر توجہ دینا بہتر ہے، تاہم سیلف کیئر ڈے اس عزم کی تجدید کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی اور ذہنی فلاح کو بھی ترجیح دیں۔

خود کو وقت دیجئے

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ کچھ وقت صرف اپنے لیے مخصوص کریں، چاہے وہ ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس دوران اپنی پسند کی سرگرمی اختیار کریں، جیسے کوئی کتاب پڑھنا، پسندیدہ ویب سیریز دیکھنا، چہل قدمی کرنا یا خاموش ماحول میں وقت گزارنا۔ اس معمول سے ذہنی سکون میں اضافہ اور روزمرہ کی تھکن میں کمی آ سکتی ہے۔

متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک

غذائیت سے بھرپور اور متوازن غذا بھی خود کی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق سبزیاں، تازہ پھل، دالیں اور اناج پر مشتمل غذا نہ صرف جسم کو ضروری غذائیت فراہم کرتی ہے بلکہ توانائی میں اضافہ اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کےلیے وقت نکالیے

جسمانی سرگرمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش یا ہلکی پھلکی جسمانی مشقت نہ صرف جسمانی فٹنس اور قوتِ برداشت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ کم کرکے موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اگر روزانہ ورزش ممکن نہ ہو تو کم از کم اس دن کچھ وقت جسمانی سرگرمی کے لیے ضرور نکالیں۔

مناسب اور پرسکون نیند لیجئے

مناسب اور پرسکون نیند کو بھی اچھی صحت کی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق معیاری نیند جسم کو بحال کرنے، دماغی کارکردگی بہتر بنانے اور روزمرہ کی تھکن دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے نیند کے معمول کو بہتر بنانا بھی سیلف کیئر کا اہم حصہ ہے۔

مراقبہ اور یوگا کی مشقیں

ذہنی سکون برقرار رکھنے کے لیے سانس کی مشقیں، مراقبہ اور یوگا جیسی سرگرمیاں بھی مفید سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی مشقیں ذہنی یکسوئی پیدا کرنے، اضطراب کم کرنے اور انسان کو زیادہ پُرسکون محسوس کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کی دیکھ بھال کسی عیش و آرام کا نام نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے، جسے مستقل معمول کا حصہ بنا کر جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو بہتر رکھا جا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیلف کیئر کے مطابق کو بھی

پڑھیں:

گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔

انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ  مانگ رہی ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • مون سون میں بیماریوں سے بچنا چاہتے ہیں؟ اپنی غذا میں یہ سبزی شامل کریں، قوتِ مدافعت بڑھائیں
  • اسپین کے ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟