’کوئی مسئلہ، خوش ہوں‘، جسٹس محسن اختر کیانی کا27ویں ترمیم کےبعد ممکنہ جج ٹرانسفر معاملے پر مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ججز کی ممکنہ ٹرانسفر کا معاملہ زیر بحث آگیا۔
پرائیویٹ کمپنی سے متعلق کیس کی سماعت میں جسٹس محسن اختر کیانی کا وکیل سے مکالمہ ہوا۔
دوران سماعت وکیل نے استدعا کی کہ حتمی دلائل کے لیے دسمبر کے پہلے ہفتے کا وقت دے دیں، جسٹس محسن اختر کیانی دسمبر کے پہلے ہفتے تو پھر کوئی اور جج صاحب بیٹھ کر سن لیں گے۔
وکیل نے جواب دیا کہ سر ایسے نہ کہیں ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نہیں کوئی مسئلہ نہیں، میں اس پر خوش ہوں۔
وکیل نے کہا کہ سر آپ جائیے گا نہیں، ہمیں بہت کچھ سیکھنا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نہیں کوئی مسئلہ نہیں، میں خوش ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔