علیمہ خان کے 10ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کے کیس میں علیمہ خان کے 10 ویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
عدالت نے علیمہ خان کی اسلام آباد اور پنجاب بھر میں ملکیتی پراپرٹی کی دوبارہ تفصیلات بھی طلب کر لیں جبکہ بینک اکاؤنٹس منجمند نا کرنے پر دو بینک مینجرز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔
علیمہ خان آج بھی پیش نہیں ہوئیں جبکہ ملزمان حاضری کے بعد روانہ ہوگئے، مقدمے کے دیگر 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے علیمہ خان کو گرفتار کر کے 17 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کو 9 مرتبہ وارنٹ گرفتاری جاری کر کے آج گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا تھا، 5 گواہان کو طلب کیا گیا تھا۔
وکیل صفائی فیصل ملک کا کہنا تھا کہ علیمہ خان آج بھی پیش نہیں ہوں گی، ہم مقدمے کی دہشت گردی کی دفعہ چیلنج کر چکے ہیں۔ یہ دہشت گردی کی دفعات کا کیس ہی نہیں بنتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔