اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز ٹیکس امور کے کیسز تک محدود
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ویب ڈیسک) گزشتہ کئی ہفتوں سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس بابر ستار صرف ٹیکس امور سے جڑے کیسز کی سماعت کر رہے ہیں اور انہیں کوئی آئینی کیس سماعت کیلئے نہیں دیا جا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں سال اگست میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک خصوصی ڈویژن بینچ تشکیل دیا تھا جو خصوصی طور پر ٹیکس سے جڑے کیسز کی سماعت کیلئے تھا اور اس کیلئے ’’کمرشل لٹیگیشن کوریڈور‘‘ کی کیٹگری بنائی گئی تھی، یہ نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے فیصلے کے عین مطابق تھا۔ 13؍ اگست 2025ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، بینچ میں جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان شامل تھے۔ اِن دونوں ججوں کو ریونیو قوانین کے تحت دائر کردہ ریفرنسز کی سماعت کرنے اور کیسز نمٹانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، ان کیسز میں انکم ٹیکس آرڈیننس، سیلز ٹیکس ایکٹ، فیڈرل ایکسائز ایکٹ اور کسٹمز ایکٹ کے کیسز بھی شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ انتظام نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 11؍ جولائی 2025ء کو ہوئے 35ویں اجلاس کے فیصلے کے تحت اور اسلام آباد ہائی کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025ء (والیوم پنجم) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔ بینچ کو فوری طور پر فعال ہونے اور تا حکم ثانی برقرار رہنے کی ہدایت کی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذرائع کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے بعد جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کو گزشتہ کئی ہفتوں سے صرف ٹیکس اور کمرشل نوعیت کے مقدمات کی سماعت تک محدود کر دیا گیا ہے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی ہدایت کے نفاذ کے بعد سے انہیں آئینی یا عمومی دائرہ اختیار سے متعلق کوئی کیس نہیں دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق، اس خصوصی ’’کمرشل لٹیگیشن کوریڈور‘‘ کی تشکیل عدالتی اصلاحات کے ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد کمرشل تنازعات کے فوری فیصلے اور پاکستان کی عالمی کاروباری آسانی (Ease of Doing Business) درجہ بندی میں بہتری لانا ہے۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائی کورٹ جسٹس بابر ستار کی سماعت اور جسٹس ٹیکس ا
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔