سینیٹ میں ووٹ دینے والے 2 ارکان آج بھی ووٹ دیں گے، مزید 3 حمایتی ارکان بھی موجود ہیں، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سینیٹر فیصل واوڈا نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں حکومت کے حق میں ووٹ دینے والے 2 اراکین آج بھی ووٹ دیں گے اور حکومت کے پاس مزید 3 حمایتی ارکان موجود ہیں۔
صحافی کے سوال پر کہ یہ ارکان کس کے ساتھ ہیں؟ فیصل واوڈا نے کہا کہ 2 اراکین اس وقت میرے گھر میں ہیں، اور 3 دیگر ارکان پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم پاس ہوچکی، 28ویں ترمیم کی بات کریں، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ
انہوں نے لکھنے پڑھنے کی عادت نہ ہونے کے سبب چھوٹی غلطیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا جمہوری حق ہے کہ اگر کاما یا فل اسٹاپ کی غلطیاں ہیں تو درست کرکے دوبارہ پیش کیا جائے۔
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واڈا نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ میں حکومت کے حق میں ووٹ دینے والے 2 اراکین آج ووٹ دیں گے اور حکومت کے پاس مزید 3 حمایتی ارکان بھی موجود ہیں۔@KulAalam @asifbashirch pic.
— Media Talk (@mediatalk922) November 13, 2025
فیصل واوڈا نے 26 نومبر کو اپنے بھائی کی غیر حاضری کا ذکر کیا اور سی ایم خیبر پختونخوا کے امن جرگے کے اقدامات کی تعریف کی، ساتھ ہی کہا کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں احتجاج کیا تو پارٹی پر پابندی اور کے پی میں گورنر راج، فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کو خبردار کردیا
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی باہر آئیں، یہ کوئی اچھی چیز نہیں، میں ان کا خیرخوا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں چائے کی پیالی میں طوفان لانے کی کوشش کی جائے گی، جس کا مقصد پارٹی اور جمہوری عمل میں سرگرمی پیدا کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بانی پی ٹی آئی پارلیمنٹ سینیٹ سینیٹر فیصل واوڈا فیصل واوڈا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی پارلیمنٹ سینیٹ سینیٹر فیصل واوڈا فیصل واوڈا فیصل واوڈا نے سینیٹر فیصل موجود ہیں حکومت کے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔