27ویں آئینی ترمیم میں پی ٹی آئی نے مدد کی، سینیٹر فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں تحریک انصاف نے مدد کی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ اللہ کی مہربانی سے ستائیسویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہو چکی ہے، اس ترمیم میں اپوزیشن کا ایک بھی وووٹ نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ (پی ٹی آئی) والے قوم کو گمراہ کرتے ہیں کہ ہم اپوزیشن کر رہے ہیں جبکہ اس ترمیم کے لیے مدد بھی پی ٹی آئی نے کی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ کسی بھی جماعت نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ یہ پاکستان کی سلامتی کے لیے تھی۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ چیئرمین سینٹ نے 59 بار پی ٹی آئی کو تجاویز کیلیے بلایا مگر یہ نہیں آئے اور اب ڈرامے بازی کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ کامیاب کروایا ہے، پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے رکن نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا نے پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔