صدر کو تاحیات استثنیٰ دینا شریعت اور آئین کے خلاف ہے، مفتی تقی عثمانی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
مفتی اعظم پاکستان تقی عثمانی نے کہا ہے کہ اسلام میں کوئی بھی شخص یا عہدے دار عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہے، صدر کو تاحیات استثنیٰ دینا
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر معروف عالم دین اور مفتی اعظم پاکستان محمد تقی عمانی نے جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اسلام میں کوئی بھی شخص چاہیے وہ کتنے بڑے عہدے پر ہو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
اسلام میں کوئی بھی شخص چاھے وہ کتنے بڑے عہدے پر ھو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ھو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیاگیاتھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے…
— Muhammad Taqi Usmani (Official) (@muftitaqiusmani) November 10, 2025اُن کا کہنا تھا کہ خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیا گیا تھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے اور یہ ملک کیلیے بھی شرمناک ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک کو اس بے عزتی سے بچائیں آمین، پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں۔
مزید پڑھیں: آرٹیکل 243 کی 2 شقوں میں ترمیم منظور، فیلڈ مارشل کو قانونی استثنیٰ حاصل، وردی اور مراعات تاحیات ہوں گی
واضح رہے کہ سینیٹ نے صدر مملکت کو 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تاحیات استثنیٰ دینے کی ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی ہے۔
یوسف رضا گیلانی کی صدارت سینیٹ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے شقیں مرحلہ وار پیش کی گئیں اور انہیں کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صدر مملکت کے تاحیات استثنیٰ سے متعلق آرٹیکل 248 میں ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے مںظور کرلیا گیا۔ ترمیم کے مطابق صدر مملکت کو تاحیات استثنیٰ حاصل ہوگا، عہدے سے سبک دوشی کے باوجود صدر مملکت کے خلاف کسی بھی کیس میں تاحیات کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکے گی۔
ترمیم یہ بھی کہا گیا ہے کہ عہدے سے سبک دوشی کے بعد اگر صدر نے کوئی عوامی عہدہ حاصل کیا تو استثنیٰ ختم ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے مطالبے پر اس شق کو 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں شامل کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تاحیات استثنی صدر مملکت ترمیم کے کے خلاف صدر کو
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔