جے یو آئی نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر سینیٹر احمد خان کو فارغ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے سینیٹر احمد خان کو جماعت سے خارج کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جے یو آئی (ف) کی قیادت نے سینیٹر احمد خان کے خلاف کارروائی اُس وقت کی جب انہوں نے ایوانِ بالا میں 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، حالانکہ پارٹی نے حکومتی بل کی مخالفت کا فیصلہ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عطاءالرحمٰن اور صوبائی امیر بلوچستان سینیٹر مولانا عبد الواسع کی سفارش پر کیا گیا۔
مرکزی قیادت نے احمد خان کو پارٹی سے نکالنے کے ساتھ ساتھ انہیں سینیٹ کی نشست سے فوری استعفے کی ہدایت بھی دی ہے۔ پارٹی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر انہوں نے استعفیٰ نہ دیا تو جمعیت علمائے اسلام ان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی تھی، جس کے حق میں حکومتی اراکین کے ساتھ پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان نے بھی ووٹ دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔