ایران ہر قسم کے فوجی اقدام کا خوفناک جواب دے گا، سابق امریکی ترجمان
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
امریکی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان ایلن ایرے نے خبردار کیا ہے کہ ایران ہر قسم کی فوجی مہم جوئی کا پوری طاقت سے جواب دے گا اور تہران کے خلاف شروع کی گئی ہر قسم کی جنگ کا اختتام اتنی آسانی سے ممکن نہیں ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان اور سینیئر سفارت کار ایلن ایرے نے مغربی ایشیا کی صورت حال کے بارے میں نیوز چینل اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ہر قسم کا فوجی اقدام سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا: "ایران اور امریکہ دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ مدمقابل جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔ جنگ شروع کرنا بہت آسان ہے، ڈونلڈ ٹرمپ ایک بٹن دبا کر یہ کام کر سکتا ہے لیکن اسے ختم کرنا موجودہ حالات کے تناظر میں بہت زیادہ دشوار ثابت ہو گا۔" ایلن ایرے نے گزشتہ بارہ روزہ جنگ سے پہلے کے حالات، جب امریکہ نے ایران سے مذاکرات کے دوران سفارت کاری سے غداری کرتے ہوئے اسرائیل کا مکمل ساتھ دیا تھا، کا موجودہ حالات سے موازنہ کرتے ہوئے کہا: "ممکن ہے اسرائیل اس امید پر کہ فوجی ٹکراو کی صورت میں امریکہ اس کی مدد کو آئے گا، ایران کے خلاف کوئی فوجی کاروائی انجام دے لیکن توجہ رہے کہ ایران کسی قسم کے فوجی اقدام کا انتہائی شدید اور خوفناک جواب دے گا اور اپنی فوجی طاقت کا بھرپور اظہار کرے گا۔ ایران کے پاس نشانہ بنانے کے لیے بہت سے اہداف موجود ہیں جبکہ مزاحمتی بلاک کے گروہوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔"
امریکی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان نے مزید کہا: "شاید گزشتہ جنگ میں ایران کی جانب سے محدود پیمانے پر جواب کی توقع رکھی جا سکتی تھی لیکن اس بار سینٹکام کے کمانڈرز نیز صدر ڈونلڈ ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کا جواب انتہائی وسیع اور تباہ کن ہو گا۔" ایلن ایئر نے کہا: "ایرانی موجودہ حالات پر دور اندیشی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ مختلف قسم کے صدمات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کا جواب بھی دے سکتے ہیں۔ لہذا ایرانی اور مزاحمتی بلاک کے گروہ سمجھتے ہیں کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو اس حد تک نقصان پہنچا سکتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہو جائے۔" یاد رہے گزشتہ چند دنوں میں ایرانی حکام نے امریکہ سے ایک نئے معاہدے کے حصول میں سنجیدگی ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنے خلاف کسی قسم کی فوجی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ حال ہی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے نام پر مدمقابل پر اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوشش کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فوجی جارحیت کی صورت میں اس پر کاری ضرب لگائی جائے گی۔ انہوں نے کہا: "امریکہ اپنی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج سمجھتا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات دنیا کی طاقتور ترین فوج پر بھی ایسی کاری ضرب لگ سکتی ہے جس کے بعد وہ اپنے پاوں پر کھڑی ہونے سے عاجز ہو جائے۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ ایران ایران کے کی جانب ہیں کہ
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔