زرداری سے مقابلےکیلئے بانی پی ٹی آئی کو 12 سال جیل میں رکھیں، راجہ پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
زرداری سے مقابلہ کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی کو 12 سال جیل میں رکھیں، راجہ پرویز اشرف
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف پی ٹی آئی ارکان پر پھٹ پڑے، قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ زرداری سے مقابلہ کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی کو 12 سال جیل میں رکھیں۔
قومی اسمبلی میں راجہ پرویز اشرف کے خطاب کے دوران ایوان میں شور شرابہ کیا گیا۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ آپ کے ڈرامے ختم ہوگئے، اب بندوبست ہوجائے گا، گالی اور بدتمیزی کا جواب ملے گا۔
راجہ پرویز اشرف نے سوال اٹھائے کہ کہاں گئیں 2 کروڑ نوکریاں؟ کہاں گئے 50 لاکھ گھر؟ کون ہے فرح گوگی؟
اسد قیصر پر تنقید کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا انشااللہ یہ صدر زرداری کو کچھ نہیں کرسکتے، زرداری سے مقابلہ کرنا ہے تو بانی پی ٹی آئی کو 12 سال جیل میں رکھیں، آپ ہی لوگوں نے بانی پی ٹی آئی کو اندر کروایا، آپ گالیاں نکالتے ہیں اور چاہتے ہیں جیل میں بیٹھے آپ کے لیڈر کو بھی گالیاں پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ جس کے ساتھی ہوں اس کو دشمن کی ضرورت نہیں، آئینی ترمیم سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوگا، ہم ملک کا دفاع مضبوط کرنے والے ہیں، آپ نے ملک کا دفاع کمزور کیا ، پاکستان کا آئین اور قانون توڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راجہ پرویز اشرف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔