کلفٹن :نشے میں دھت ڈرائیور نے فٹ پاتھ پرسوئے افراد پر کارچڑھادیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-02-16
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بوٹ بیسن تھانے کی حدود کلفٹن عبداللہ شاہ غازی کے مزار آئی کون ٹاور کے قریب تیز رفتار کار فٹ پاتھ پر چڑھ گئی، حادثے کے نتیجے میں فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے 2 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ چار زخمی ہوئے۔ حادثہ کار نمبربی آر ٹی 926 ڈرائیور کی تیز رفتاری کے باعث رونما ہوا ۔ واقعے میں جاں بحق ہونے والے دونوں افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ کار میں سوار دو افراد سمیت چار زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔حکام کا کہنا تھا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کریم اورشبیر احمد کے نام سے کی گئی جب کہ زخمیوں میں24سالہ مدثر ولد غلام یاسین ،38سالہ شکیل ولد مزمل حیات ،37 سالہ طاہر علی ولد خدا بخش بلوچ اور38سالہ احد شامل ہیں۔گاڑی میں 2 افراد احد اورطاہر علی سوار تھے۔ گاڑی کا ڈرائیو احد نشے میں دھت تھا جب کہ گاڑی طاہر علی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔زخمی کار ڈرائیور اور ساتھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔تاہم پولیس نے ڈرائیور کو اسپتال سے حراست میں لے لیا۔پولیس نے جائے وقوعہ سے کار کو تحویل میں لے کر فرانزک معائنے کے لیے بھجوا دیا ہے جبکہ جاں بحق افراد کی لاشوں کواسپتال کی سردخانے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق فٹ پاتھ پر متعدد مزدور روزانہ رات کو قیام کرتے ہیں اور حادثے کے وقت دونوں متوفی افراد وہیں سو رہے تھے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مزار کے اطراف ٹریفک نظم و ضبط بہتر بنایا جائے تاکہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فٹ پاتھ پر
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔