کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی جانب سے پنجاب کے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد میں 180 ٹن کھجوروں کی تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور اپنے نفاذی شراکت دار حیات فاؤنڈیشن کے تعاون سے پنجاب کے مختلف اضلاع میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 180 ٹن کھجوریں تقسیم کیں۔
اس اقدام کا مقصد حالیہ سیلاب سے متاثرہ کمزور اور مستحق خاندانوں کی مدد کرنا اور انہیں غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا تھا۔ کھجوریں اپنی غذائی خصوصیات کے باعث توانائی کا بہترین ذریعہ ہیں اور آفات سے متاثرہ علاقوں میں غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی طرف سے مستحق خاندانوں کو معاشی بااختیار بنانے کے لیے مویشیوں کی فراہمی کا آغاز
اس منصوبے کے تحت پنجاب کے آٹھ اضلاع ملتان، مظفرگڑھ، جھنگ، کوٹ ادو، حافظ آباد، راجن پور، خانیوال اور فیصل آباد میں کھجوروں کی تقسیم کی گئی، جس سے ہزاروں متاثرہ خاندان مستفید ہوئے جو سیلاب اور بے گھر ہونے کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔
یہ منصوبہ مملکتِ سعودی عرب کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے جو کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے ذریعے پاکستان کے عوام کے ساتھ مشکل وقت میں یکجہتی، غذائی تحفظ کے فروغ، انسانی امداد، اور متاثرہ طبقات کی عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
180 ٹن کھجور سیلاب سے متاثرہ افراد کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 180 ٹن کھجور سیلاب سے متاثرہ افراد سیلاب سے متاثرہ ریلیف سینٹر
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔