سنگا کپ 2025 میں تاریخی کامیابی کے بعد لیاری کی فٹبال ٹیم پاکستان پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کراچی:
سنگا کپ 2025 میں تاریخی کامیابی کے بعد لیاری فٹبال اکیڈمی کی ٹیم واپس وطن پہنچ گئی۔
ایشیا کے سب سے بڑے یوتھ فٹبال ٹورنامنٹ میں سلور میڈل اپنے نام کرنے والے لیاری کے نوعمر فٹبالرز اور آفیشلز کا کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا، مداحوں نے ان کو ہار پہنائے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔
رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے ایئرپورٹ پر کھلاڑیوں کا استقبال کیا، انہوں نے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی سطح پر شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کھلاڑی نہ صرف لیاری بلکہ پورے پاکستان کا فخر ہیں جنہوں نے انتہائی محدود وسائل اور مالی مشکلات کے باوجود ملک کا نام روشن کیا۔
لیاری فٹبال اکیڈمی کے صدر شیخ عبدالرحمن نے کہا کہ حکومت سندھ اور صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر سنگا کپ 2025 میں سلور میڈلز حاصل کرنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے مکمل سرپرستی، مالی معاونت فراہم کریں تاکہ یہ نوجوان آئندہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا پرچم مزید بلند کر سکیں۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما سفیان دلاور، سید جواد شعیب، جان محمد بلوچ، زوہیب حسین بلوچ و دیگر بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ سنگاپور میں منعقدہ سنگا کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے بوائز انڈر16 ایونٹ میں لیاری فٹبال اکیڈمی نے رنر اپ کی حیثیت سے پاکستان کے لیے سلور میڈل حاصل کیا تھا، ٹورنامنٹ میں انڈر8، انڈر10، انڈر12، انڈر14 اورانڈر16 کے ایونٹس میں 13 ممالک کی 160 ٹیموں نے شرکت کی جبکہ 15 ویں ایڈیشن میں پہلی مرتبہ پیرا فٹبال مقابلے بھی شامل کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سنگا کپ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔