سندھ ہائیکورٹ نے نیپرا کو کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر عملدرآمد سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں کمی کیخلاف درخواست پر نیپرا کو ملٹی ایئر ٹیرف پر کسی بھی کارروائی سے روک دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کے الیکٹرک نے نیپرا کی جانب سے ملٹی ایئر ٹیرف میں تبدیلی کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چلینج کیا ہے۔
کے الیکٹرک کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے نیپرا کو ملٹی ایئرٹیرف پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکتے ہوئے اتھارٹی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل و دیگر کو نوٹس جاری کردیئے۔
کے الیکٹرک کے وکیل نے موقف اختیار کیا گیا کہ نیپرا نے 20 اکتوبر کو ایسے فریق کی درخواست پر فیصلہ کیا جو مرکزی کیس میں فریق نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا نے نظر ثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے از خود نوٹس کے تحت ٹیرف 32 روپے فی یونٹ مقرر کیا۔ وفاقی حکومت نے اگر نئے ٹیرف کو نوٹیفکیشن جاری کردیا تو کے الیکٹرک کو شدید نقصان ہوگا۔
وکیل نے کہا کہ ایسی صورت میں کے الیکٹرک کو آپریشن بند کرنا بھی پڑسکتا ہے۔ نیپرا نے از خود نوٹس کے تحت نظر ثانی کے دوران درخواستگزار کو نوٹس تک جاری نہیں کیا۔
کے الیکٹرک نے نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل بھی دائر کی ہے جبکہ نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل فعال نا ہونے کی باعث ٹیرف کے جبری نفاذ کی صورت میں کمپنی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عدالت نے نیپرا کو کے الیکٹرک ملٹی ایئر ٹیرف پر کسی بھی کارروائی سے روک دیا۔ عدالت نے نیپرا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 19 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملٹی ایئر ٹیرف سندھ ہائیکورٹ کے الیکٹرک نیپرا کو نے نیپرا ٹیرف پر
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔