اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں۔اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاور ڈویژن صارفین کو

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟

وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے پراپرٹی ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس بوجھ کم کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کو کسی قسم کی رعایت دیے جانے کا امکان نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

ذرائع کے مطابق حکومت ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے مختلف ٹیکس اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اس سلسلے میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پراپرٹی ٹیکسز میں مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا اور مجموعی طور پر حکومتی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ایف بی آر کے حکام کے مطابق پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ 3 ماہ کے دوران جائیدادوں کے ویلیو ایشن ریٹس میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کی جا چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خرید و فروخت کے عمل کو تیز کرنا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح پراپرٹی فروخت کرنے پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد تک لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور لین دین کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: آئندہ مالی سال کا بجٹ: کس کو ریلیف ملے گا اور کس پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا؟

دوسری جانب نان فائلرز کے لیے کسی قسم کی ٹیکس رعایت تجویز نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے عائد مجموعی ٹیکس بوجھ بدستور برقرار رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت انہیں تقریباً 10.5 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ریلیف صرف ٹیکس نیٹ میں شامل افراد تک محدود رکھا جائے گا تاکہ مزید شہریوں کو فائلر بننے کی ترغیب دی جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پراپرٹی سیکٹر سے متعلق مختلف ٹیکسوں کی وصولیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس عرصے میں پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولیاں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم رہیں جبکہ 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی میں 68 فیصد اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37A کے تحت وصول کیے جانے والے 10 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس میں 64 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح شق 7E کے تحت ڈیمڈ انکم ٹیکس کی وصولیوں میں بھی 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ

ریئل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کے صدر احسن ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کا وژن ملکی معیشت کے لیے مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر 45 سے 55 مختلف صنعتیں وابستہ ہیں لہٰذا اس سیکٹر میں سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ 4 فیصد سے زائد معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو مراعات دینا ناگزیر ہے، کیونکہ اس شعبے کی بحالی سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی تقویت ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کررہی ہے، رانا ثناءاللہ

ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق پراپرٹی سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس ریلیف اور دیگر اصلاحات سے متعلق تجاویز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا جس کے بعد حکومت پراپرٹی ٹیکس نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ میں ریلف پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ٹیکس ریلیف وفاقی بجٹ 2026-27

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان