نیپرا کو کےالیکٹرک ملٹی ایئر ٹیرف پر کارروائی سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے ٹیرف میں کمی کے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے نیپرا کو کے الیکٹرک ملٹی ایئر ٹیرف پر کارروائی سے روک دیا۔
عدالت نے نیپرا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل و دیگر کو نوٹسز جاری کردیے اور فریقین سے 19 نومبر تک جواب طلب کر لیا۔
دورانِ سماعت کے الیکٹرک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیپرا نے 20 اکتوبر کو ایسے فریق کی درخواست پر فیصلہ کیا جو مرکزی کیس میں فریق نہیں، نیپرا نے نظرِ ثانی کی درخواستیں مسترد اور از خود نوٹس کے تحت ٹیرف 32 روپے فی یونٹ مقرر کیا۔
وکیل نے بتایا کہ حکومت نے نئے ٹیرف کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا تو کے الیکٹرک کو نقصان ہو گا، ایسی صورت میں کے الیکٹرک کو آپریشن بند کرنا بھی پڑسکتا ہے۔
الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ نیپرا نے نظرِ ثانی کے دوران درخواست گزار کو نوٹس تک جاری نہیں کیا، کے الیکٹرک نے نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل بھی دائر کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔