خیبر پختونخوا، 170 میں سے 14 سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
فائل فوٹو، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
خیبر پختونخوا میں 170 میں سے 14 سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرلی گئی۔
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 170سروسز کی نشاندہی کی جا چکی جنہیں ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ 14 مختلف سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرلی گئی ہے، جن میں انتقال جائیداد ٹیکس، جائیداد ٹیکس، اسلحہ لائسنس، ابیانہ، ڈرائیونگ لائسنس، پلاٹ رجسٹریشن، ایچ ای سی داخلہ اور ہنٹنگ لائسنس فیس وغیرہ شامل ہیں۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ مزید 34 سروسز کو دسمبر تک ڈیجیٹائز کیا جائے گا، جس سے 12 اعشاریہ 3 ارب روپےکی بچت متوقع ہے جبکہ جون 2026ء تک تمام 170 سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل کرلی جائے گی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے کے تمام امور کو بتدریج ڈیجیٹلائزیشن کی طرف لے جایا جا رہا ہے، ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ تیار کرلیا گیا ہے، جلد کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت، عوام اور تاجروں کے تمام ادائیگی کے معاملات ڈیجیٹل کیے جائیں گے، جس کا مقصد مالیاتی امور میں شفافیت اور آسان سہولت کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ہر 2 ہفتے بعد ریویو میٹنگ کی جائےگی، خیبر پختونخوا کو معاشی طور پر خودکفیل اور جدید طرزحکمرانی کی مثال بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن مکمل خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔