اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ ایشیا و بحرالکاہل کے خطے میں حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درکار مالی خلا پر کرنے کے لیے ہر سال ایک کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی، ماحولیاتی وموسمیاتی نظاموں کے تحفظ سے روزگار، پیداواری صلاحیت اور مالی استحکام میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس بات کا انکشاف ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایشیا پیسیفک کلائمٹ رپورٹ 2025 میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی و موسمیاتی نظاموں میں سرمایہ کاری ضروری ہے کیونکہ ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کی مجموعی پیداوار کا تقریبا 75 فیصد حصہ ان شعبوں سے آتا ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر قدرتی وسائل پر انحصار کرتے ہیں اور یہی وسائل تیزی سے زوال پذیر ہیں۔

رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قدرت کے تحفظ کو اپنی معاشی پالیسیوں کا بنیادی حصہ بنائیں۔

رپورٹ کے مطابق ممالک کو اپنی حکمرانی، پالیسی اور ڈیٹا کے ڈھانچے کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ نجی سرمایہ کاری کو ماحول دوست ترقی، تحفظِ فطرت اور اختراعات کی جانب راغب کیا جا سکے۔

بینک کے چیف اکانومسٹ البرٹ پارک نے بتایا کہ صحت مند ماحولیاتی نظام ایشیا کی ترقی کی کہانی میں اضافی چیز نہیں بلکہ بنیادی سرمایہ ہیں، قدرت میں سرمایہ کاری کرنے والے والے ممالک دراصل اپنی مسابقت اور مالی استحکام میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری نہایت محدود ہے۔ دنیا کے 270 کھرب ڈالر کے مالیاتی اثاثوں میں سے صرف تقریبا 200 ارب ڈالر سالانہ یعنی ایک فیصد سے بھی کم ماحول دوست منصوبوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا و بحرالکاہل کے خطہ میں حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درکار مالی خلا کو پر کرنے کے لیے ہر سال ایک کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

بینک نے زور دیا ہے کہ سرکاری وسائل کو ایسے نظام بنانے پر مرکوز کیا جائے جو نجی سرمایہ کاری کو راغب کریں، اگر حکومتیں حکمرانی، پالیسی اور ڈیٹا میں اصلاحات لائیں تو قدرتی سرمایہ کاری میں نجی شعبے کی شمولیت بڑے پیمانے پر ممکن ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں 10 سالہ روڈ میپ بھی پیش کیا گیا تاکہ ممالک قدرت کو اپنے معاشی اور مالیاتی نظاموں میں شامل کر سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں سرمایہ کاری رپورٹ کے مطابق کھرب ڈالر کے لیے

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان