میڈی کیم ٹرافی: زون 6وائٹس اور3وائٹس کی فائنل میں رسائی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسپورٹس ڈیسک) ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کراچی کے زیر اہتمام میڈی کیم گروپ آف کمپنیز کے تعاون سے منعقد کردہ آرسی اے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تیسرے مرحلے میڈی کیم ٹرافی انڈر-19 انٹر زونل کرکٹ ٹورنامنٹ میں گزشتہ روز زون چھ وائٹس اور زون تین وائٹس نے اپنی اپنی حریف ٹیموں کو شکست دے کر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ کے سی سی اے اسٹیڈیم پر کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں زون چھ وائٹس نے زون چھ بلوز کو 29 رنز سے شکست دے دی۔ زون چھ وائٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں کے نقصان پر 172 رنز بنائے۔ عبداللہ جاوید نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 4 چوکوں کی مدد سے 69،محمد اذان نے 45، جبکہ سومان کبیر اور اسد عمر نے 18،18 رنز بنائے۔ عبدل وہاب اور رحمت اللہ نے 2-2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔جواب میں زون چھ بلوز 143 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی۔ عبد الحئی نے 36، رحمت اللہ نے 25 اور عاطف علی نے 19 رنز بنائے۔ آف اسپنر عبداللہ جاوید نے 26 رنز دیکر 4، سعد سخاوت اور اسد عمر نے 2-2 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔ کھیل کے اختتام پر سابق فرسٹ کلاس کرکٹر فراز پٹیل نے زون 6 وائٹس کے عبداللہ جاوید کو میڈی کیم مین آف دی میچ ایوارڈ دیا۔انو بھائی پارک گراؤنڈ پر کھیلے گئے دوسرے سیمی فائنل میں زون تین وائٹس نے زون سات وائٹس کو 4 وکٹوں سے ہرا دیا۔ زون سات وائٹس پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 167 رنز بنا کر آوٹ ہوگئی۔ شایان احمد نے 46، زوہیب خان نے 28، علی شیر نے 20 اور طلحہٰ عرفان نے 18 رنز بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائٹس نے میڈی کیم زون چھ
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔