Juraat:
2026-06-03@01:55:44 GMT

سوڈان کاالمیہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

سوڈان کاالمیہ

حمیداللہ بھٹی

غریب ممالک کے معدنی وسائل لوٹنے کے لیے عالمی طاقتیں اب براہ راست حملے نہیں کرتیں بلکہ معاہدوں کا سہارہ لیتی ہیں یاپھر کسی ایک گروہ کی حمایت سے مزموم مقاصد حاصل کرلیتی ہیںبینک اور بندرگاہیں بھی سامراج کا وہ ہتھیارہیں جن کی کاٹ ہتھیاروں سے زیادہ ہے کرنسی کی صورت میں کاغذ کے ٹکڑوں کی تکریم انسانی جان سے زیادہ ہے سوڈان پر کسی ملک نہیں حملہ نہیں کیالیکن اِس کی معدنیات نے خطرات کو جنم دیاہے ایک گروہ کی بیرونی حمایت نے اِس بدنصیب ملک کوخانہ جنگی سے دوچارکررکھاہے ملک میں دوبرس سے شدید جنگ جاری ہے سرکاری فوج اور نیم فوجی تنظیم آر ایس ایف (ریپڈ سپورٹ فورس ) ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں ویسے تو دونوں ہی قتلِ عام میں مصروف ہیں مگر عرب امارات کی حمایت یافتہ آرایس ایف کی درندگی نمایاں ہے ایساشاید ہی کوئی جرم ہو جس میں یہ ملوث نہ ہو بچوں کے سامنے والدین مارے جارہے ہیں ِس طرح تو کوئی جانوروں سے بھی برتائو نہیں کرتاجس طرح کاسوڈان کے شہریوں سے ہورہا ہے مگر اِتنے مظالم دیکھ کربھی عالمی طاقتیں اور اِدارے خاموش تماشائی ہیں ایک جرمن سفارتکار جوہان ویڈیفل نے موجودہ صورتحال کو قیامت خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بنتاجارہا ہے۔ افسوس کہ خونی واقعات سے آگاہی کے باوجوداقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اِدارے امن کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کرپارہے مسلم ممالک کی او آئی سی نامی تنظیم بھی لاتعلق ہے کیونکہ آرایس ایف کی پشت پر عرب امارات ہے اور اسرائیل بھی خانہ جنگی جاری رکھنے کا متمنی ہے۔
موجودہ خانہ جنگی سے سوڈان ایک بارپھر تقسیم کے دہانے پر ہے یہ ملک عملی طورپر مشرقی اور مغربی دو حصوں میں بٹ چکا ہے ماضی میں عیسائی اکثریتی علاقے دارفرکو آزاد وخودمختار بناکر خانہ جنگی ختم کرائی گئی اب ایک بارپھر اجتماعی قتلِ عام،جنسی تشدد،لوٹ ماراور اغواجیسے واقعات معمول بن چکے ہیں تاوان کے لیے عمر،نسل اور جنس کی بنیاد پرشہریوں کو حراستی مراکزمیں بندکیاجارہا ہے اِس بدنصیب ملک کے سواکروڑ شہری بے گھر ہوچکے جن میں سے پچیس لاکھ ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں املاک کی تباہی کے ساتھ دسیوں ہزاراموات ہو چکیں خواراک اورادویات کی قلت سے انسانی المیہ شدیدہوتاجا رہا ہے مگر دنیا ایسے چُپ ہے جیسے یہ سب معمول کا واقعہ ہو عیسائیوں کے قتلِ عام کا الزام لگاکر نائیجریا میں فوجی کاروائی کی تیاری کاحکم دینے والے امریکی صدر ٹرمپ کی آنکھیں سوڈان میں جاری درندگی دیکھنے سے قاصرہیں اِسی لیے جنگ بندی کرانے کا خیال نہیں آیایہ خاموشی،لاتعلقی ، تماشائی جیساکرداراور انصاف کا دوہرامعیار سمجھ سے بالاتر ہے۔
اپریل 2023سے فوج اور آرایس ایف میں جھڑپیں جاری ہیں جواِس وقت دارالحکومت خرطوم سے لیکر دارفر تک وسیع ہو چکی ہیں کئی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال ہے اقوامِ متحدہ نے دنیا کے المناک ترین بحرانوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوڈان میں تین
کروڑ سے زائد لوگوں کو فوری طورپر غذائی امداد کی ضرورت ہے وگرنہ اموات کی تعداد بڑھنے کاخدشہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ اِدارہ امن کی بحالی میں کیوں ناکام ہے ؟ ۔
یہ درست ہے کہ سوڈان کے المیے میں اقتدارکی داخلی کشمکش کا اہم کردار ہے مگرکچھ ایسی طاقتیں بھی ہیں جو اپنے مفاد کے لیے جنگ کوبڑھاوادینے میں پیش پیش ہیں ہیں سوڈان میں جاری خانہ جنگی میں اندرونی کشمکش کے ساتھ بیرونی مداخلت بھی کارفرما ہے جس کی ایک وجہ تو سونے کی کانیں ہیں اور اِس ملک کا بحیرہ احمر کے نزدیک ہوناہے اگر بیرونی دنیا کے یہاں معاشی اور سیاسی عزام نہ ہوتے تو یہ ملک ہرگز خانہ جنگ اور بدامنی کا مرکز نہ بنتاخطے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ سوڈان میں خانہ جنگی کو ہوا دینے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی سوچ ایک ہے عرب امارات کی کوشش ہے کہ چاہے ملک مزید ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے مگر سونے کی کانوں پراُس کا قبضہ مستحکم رہے آر ایس ایف کو ہتھیار ومالی مددکا زریعہ عرب امارات ہی ہے ۔
اسرائیل کی دلچسپی صرف سونے کی کانوں تک محدودنہیں بلکہ دیگر عوامل بھی ہیں جن میں سے ایک حماس کی حمایت کرنا ہے اِس پر اُسے غصہ ہے جس کی وہ سوڈان کوسزادے رہا ہے اوراُس کی وحدت کو نقصان سے دورچارکرناچاہتاہے تاکہ اِس حد تک سوڈان کو کمزور و ناتواں کردیا جائے کہ مستقبل میں کبھی اسرائیل مخالف موقف کی جرات نہ کرسکے۔ 2019 میں صدر عمر البشیر کی برطرفی کے بعد سوڈان کی عوام کو توقع تھی کہ جمہوری تبدیلی سے ملک میں امن آئے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوسکاکیونکہ طاقت کی اندرونی کشمکش اور بیرونی مداخلت نے مزید انتشار و افراتفری میں دھکیل دیاہے جس سے یہ ملک سنبھل نہیں رہا اور مسلسل عدمِ استحکام سے دوچارہے ۔
اندورنی اور بیرونی عوامل نے صورتحال کو ازحد پچیدہ اور سنگین کر دیا ہے آرایس ایف کی نظر میں غیر عرب سوڈانی دراصل اقلیت ہیں جس کی وجہ سے انھیں معاشی یا سیاسی حقوق دینے سے انکاری ہے مگر فوج ایسی کسی سوچ سے اتفاق نہیں کرتی اور عرب اور غیر عرب پالیسی کے
خلاف مزاحمت کررہی ہے آرایس ایف ہر گز ایک طویل لڑائی کی متحمل نہیں تھی مگر بیرونی کمک نے استعداد میں اِتنا اضافہ کردیا ہے کہ ایک طویل لڑائی کے قابل چکی ہے مگر اُس کے وحشیانہ حملوں سے ملک تباہی کے دہانے پر آگیاہے سوڈان کے المیے کی شدت کم کرنا ہے تو آر ایس ایف کو غیر مسلح کرنا ہوگا عربوں کے حقوق کا حامی بن کر یہ تنظیم دراصل ملک میں نسلی خلیج کا موجب ہے اب تواِس درندہ صفت تنظیم کے پاس بڑی تعداد میں ڈرونز ہیں جس کی وجہ سے اُسے فوج پر برتری حاصل ہے مگر یہ برتری سوڈان کے لیے بہت تباہ کُن ثابت ہورہی ہے الفاشر شہر میں آر ایس ایف نے جو کیا ہے وہ حقیقی نسل کشی ہے یہ نیم فوجی گروہ سترہ ماہ کے محاصرے کے بعد اِس شہر پر قابض ہوکر پانچ دنوں میں ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اُتار چکا ہے الفاشر کے سقوط کے بعد آرایس ایف کابظاہرپورے دارفر پر قبضہ تو ہوگیا ہے لیکن ملکی وحدت شدیدخطرے میں ہے کیونکہ ایک طرف تو سوڈان کی ایک اور تقسیم کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ نسلی حوالے سے بھی مزیدفسادات ہوسکتے ہیں اگر مہذب دنیافوری طورپر اپنی زمہ داری محسوس کرتے ہوئے کردارادا کرے تو یہ ملک مزید قتل و غارت سے محفوظ رہنے کے ساتھ ٹوٹ پھوٹ سے بچ سکتا ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: عرب امارات آر ایس ایف سوڈان میں خانہ جنگی آرایس ایف سوڈان کے کے لیے یہ ملک ہے مگر

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی