سعودی عرب سے تعلقات مضبوط اور تاریخی ہیں‘ برطانوی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-06-6
ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ ریاض کے ساتھ لندن کے تعلقات مضبوط اور تاریخی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں 1900 سے زیادہ برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ ایویٹ کوپران دنوں ریاض کا دورہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ان کا ملک مالی تعاون کے فریم ورک کے اندر سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو تیز کرنا چاہتا ہے۔ ایویٹ کوپر نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا ملک سوڈان میں مذاکرات کی حمایت کرتا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک سوڈان میں فوری طور پر جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ لندن نے سوڈان میں شہریوں کی تکالیف کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فنڈز مختص کرنے کی کوششوں کا اعلان کیا ہے۔اسی سلسلے میں برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا کہ ان کا ملک لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح دیکھنا چاہتا ہے۔ لندن لبنانی حکومت اور لبنانی فوج کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ اپنی برطانوی ہم منصب سے گفتگو کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔