سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے نواحی علاقے چلتن کے پہاڑی سلسلوں میں کارروائی کرتے ہوئے 10 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کاروائی کالعدم تنظیم کے کیمپوں کے خلاف کی گئی، مارے گئے تمام افراد کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر میں تیزی کے ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

30 ستمبر اور یکم اکتوبر کی درمیانی شب سیکیورٹی نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع کیچ میں 2 الگ الگ کارروائیوں میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا، یکم اکتوبر کو ہی کوئٹہ اور شیرانی میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 18 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

4 اکتوبر کو خضدار میں سیکیورٹی فورسز کی کاررائی میں فتنۃالہندوستان کے 14 دہشت گرد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

17 اکتوبر کو خاران میں پولیس کے قافلے پر حملے میں ایس ایچ او قاسم بلوچ شہید ہوگئے تھے، 19 اکتوبر کو بلوچستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیاں کرنے والا فتنۃ الہندوستان کا انتہائی مطلوب دہشتگرد سرغنہ جمیل عرف ٹیٹک مارا گیا تھا۔

21 اکتوبر کو سبی ٰمیں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 5 دہشت گرد مارے گئے تھے، 22 اکتوبر کو بلوچستان کے علاقے دالبندین میں سیکیورٹی فورسز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز اکتوبر کو

پڑھیں:

پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی

اپر دیر:

سیاحتی مقام کمراٹ میں برف پگھلنے سے دریا کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہونے لگا جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

سیاحتی مقام وادی کمراٹ کی بائی پاس سڑک دریا کے پانی میں بہہ گئی تاہم گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔

وادی کمراٹ بائی پاس روڈ پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار بہہ گیا تاہم مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے موٹر سائیکل سوار کو بچایا لیا جبکہ موٹر سائیکل پانی میں لاپتا ہوگئی۔

دوسری جانب، پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور  گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔

حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔

متعلقہ مضامین

  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ