اسلام ٹائمز: بلتستان کے حوالے سے انہوں نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ کچھ حلقے بلتستان کو اپنا حصہ نہیں سمجھتے، مگر دعویٰ کرتے ہیں کہ زمین اور معدنیات انکی ہیں۔ علامہ سروری نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان کی زمین ہو یا معدنیات، اس پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دینگے۔ ''ہماری قوم متحد ہے اور نہ زمین دیں گے، نہ معدنیات۔'' علامہ شیخ حسن سروری نے خطبے کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے گلگت بلتستان کی انتظامی صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نگراں وزیراعلیٰ کا تقرر ہوچکا ہے، لیکن تاحال کابینہ کی تشکیل نہیں ہو پائی۔ امید ظاہر کی کہ جلد از جلد کابینہ کا اعلان کیا جائے، تاکہ خطے کے اہم معاملات تعطل کا شکار نہ ہوں۔ سردیوں کی شدت اور بعض محکموں میں چھٹیوں کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ سروری نے تین مختلف گروہوں کے نام تین اہم پیغامات دیئے۔ ترتیب و تنظیم: آغا زمانی

 خطبۂ اول
حمد و ثنائے الٰہی اور صلوات بر محمد و آل محمد۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى
(شوریٰ: 23)
علامہ شیخ حسن سروری نے خطبے کا آغاز تقویٰ الٰہی کی تاکید سے کرتے ہوئے فرمایا: سب سے پہلے میں اپنے نفس کو تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، پھر تمام مومنین کو تقاضا کرتا ہوں کہ تقویٰ اختیار کریں۔ یہی خدا کا حکم ہے، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت ہے اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ کی تاکید بھی۔

یومِ ولادتِ سیدۂ کائنات اور شکرِ الٰہی
انہوں نے فرمایا کہ آج دو عظیم نسبتوں کا دن ہے:
1۔ روزِ جمعہ جو سید الایام ہے۔
2۔ سیدۂ کونین فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت۔
علامہ سروری نے بارگاہِ الٰہی میں شکر ادا کرتے ہوئے حاضرین، علماء، سادات اور تمام مومنین کو اس مبارک موقع پر ہدیۂ تبریک پیش کیا۔

بیماروں کے لیے دعا
خطبے میں دو مریضوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی: ایک نوجوان لڑکی جو حادثے کے باعث آئی سی یو میں داخل ہے۔ ایک نوجوان لڑکا جو کراچی میں گردے کے علاج کے سلسلے میں ایک سال سے زیرِ علاج ہے۔ علامہ سروری نے کہا: “بار الٰہا! ان دونوں مریضوں کو اور تمام مریضوں کو بحقِّ سیدہ کائنات شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرما۔”

علمائے دین کے لیے دعا
انہوں نے مزید دعا کی کہ: “بار الٰہا۔۔ داعی اتحاد بین المسلمین علامہ شیخ حسن جعفری دامت برکاتہ اور محمدیہ ٹرسٹ کے سرپرست اخوند غلام حسین مقدس سمیت تمام علماء و طلبہ کو صحت و سلامتی عطا فرما۔”

روحانی امراض اور غفلت
علامہ سروری نے نہایت اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے فرمایا: جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے ہم لاکھوں خرچ کرتے ہیں، لیکن روحانی بیماریوں کے علاج سے بھاگتے ہیں۔ دین سیکھنے اور روح کو پاکیزہ کرنے کے لیے نہ مال خرچ کرتے ہیں نہ وقت۔ بار الٰہا! ہمیں روحانی امور میں دلچسپی اور توفیق عطا فرما۔

شکرِ الٰہی، مولا علی علیہ السلام کے فرمان کی روشنی میں
موضوعِ گفتگو "شکر" پر جاری کرتے ہوئے مولا علی علیہ السلام کا قول نقل کیا:
1۔ سب سے پہلا شکر یہ کہ خدا نے ہمیں عدم سے وجود عطا کیا۔
2۔ دوسرا شکر یہ کہ ہمیں انسان بنایا، اشرف المخلوقات بنایا۔
3۔ تیسرا شکر یہ کہ ہمیں مسلمان پیدا کیا۔
4۔ چوتھا شکر یہ کہ ہمیں محمدی، علوی، فاطمی، حسنی اور حسینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ خدا نے ہمیں قرآن دیا، اہل بیت عطا کیے اور چودہ معصومین کی ولایت میں پیدا فرمایا۔ یہ سب مستقل شکر کے اسباب ہیں۔

ولادتِ حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا
علامہ سروری نے سیدۂ کونین کی ظاہری اور باطنی عظمت بیان کی:

سیدہؑ کی نورانی حقیقت روایات کے مطابق:
خداوند عالم نے نوری حقیقتِ فاطمہ کو آدم علیہ السلام کی خلقت سے ہزاروں سال پہلے پیدا فرمایا۔ جنت میں آدم علیہ السلام اور حوا (س) نے سیدہ (س) کے نورانی وجود کا مشاہدہ کیا۔

ولادتِ ظاہری، مکہ مکرمہ
جمادی الثانی میں جناب خدیجۃ الکبریٰ کے گھر نور ایمان اُترا اور پورا مکہ نورِ زہراء سے روشن ہوگیا۔

درست شدہ روایتِ ولادت
علامہ سروری نے جناب خدیجہؑ کی تنہائی اور صبر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اعلانِ نبوت کے بعد جب مکہ والوں نے جناب خدیجہ کا بائیکاٹ کیا، وہ شدید تنہائی میں تھیں۔ روایت ہے کہ ولادت کے وقت چار بزرگ خواتین جنت سے ان کی مدد کے لیے بھیجی گئیں:
1۔ حضرت حوّا
2۔ حضرت مریم بنت عمران
3۔ حضرت آسیہ بنت مزاحم
4۔ حضرت کلثوم (خواہرِ موسیٰ و ہارون)
انہوں نے جناب خدیجہؑ سے کہا: حزنیہ، پریشان نہ ہوں! ہم آپ کی مدد کے لیے پروردگار کے حکم سے آئی ہیں۔ آپ کی کوکھ سے جو نور ظہور کرنے والا ہے، وہ کائنات کی سرورۂ نسواں ہے۔ یہ روایات شیخ صدوق کی کتاب ’’دلائل الامامہ‘‘، علامہ مجلسی کی ’’بحارالانوار‘‘ اور دیگر معتبر مصادر میں مذکور ہیں۔

سیدہ کی عظمت اور دین کی بقا
علامہ سروری نے کہا: سیدہؑ کی شناخت معصوم ہی کرسکتا ہے۔ ہم تو صرف ان کے نورانی کلمات اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ سیدہ کائنات کی وہ عظیم ہستی ہیں، جن کا ذکر اللہ نے قرآن میں ’’کوثر‘‘ کے عنوان سے کیا۔

ولادتِ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اور جنتی خواتین کی آمد
علامہ شیخ حسن سروری نے فرمایا کہ حضرت خدیجہؑ جب جنت سے بھیجی گئی چار خواتین کو دیکھتی ہیں تو ان پر خوشی اور تعجب کا اظہار کرتی ہیں۔ اس دوران حضرت خدیجہؑ اور خواتین کے درمیان ایک پردہ حائل ہوتا ہے اور مکہ مکرمہ کی فضاء نورِ زہراء سے روشن ہو جاتی ہے۔ حضرت فاطمہ جب دنیا میں تشریف لاتی ہیں تو وہ جنتی خواتین حضرت خدیجہ کے سامنے سجدہ میں ہوتی ہیں۔ یہ واقعہ متعدد مستند کتب میں نقل ہوا ہے، جیسے: ’’فاطمہ مہدی اللہد‘‘، ’’بحارالانوار‘‘، چاروں خواتین یک زبان ہو کر کہتی ہیں: ’’السلام علیک یا ام الائمہ‘‘، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اپنے جواب میں سب سے پہلے سجدے میں جا کر شہادتین بیان کرتی ہیں: ’’أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شریک له وأشهد أن محمداً عبده ورسوله‘‘، اس کے بعد ولایت کا اقرار کرتی ہیں: ’’أشهد أن علیاً ولی اللہ۔‘‘ علامہ سروری نے وضاحت کی کہ پیدائش کے فوری بعد حضرت زہراؑ نے رسالت، نبوت اور ولایت کا اقرار کرکے امت کے لیے حقیقی رہنمائی کا مظاہرہ کیا۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے کمالات اور صفات
علامہ سروری نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے متعدد فضائل بیان کیے: عبادت و خشوع، صبر و شجاعت، استقامت و شامت، سخاوت و حسن اخلاق، اولاد کی تربیت اور شوہر کی اطاعت، افت و عصمت کی حفاظت۔ انہوں نے فرمایا کہ ان صفات کو سنتے ہوئے انسان خوشی اور محبت محسوس کرتا ہے، کیونکہ فطرتاً انسان کمالات سے محبت کرتا ہے۔ علامہ سروری نے تاکید کی کہ یہ فضائل صرف سننے کے لیے نہیں، بلکہ عملی زندگی میں اپنانے کے لیے ہیں۔

تلقینِ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور چار اہم اعمال
علامہ سروری نے کہا کہ حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو چار کاموں کے لیے تلقین فرمائی:
1۔ قرآن کریم کی تلاوت مکمل کرنا
حضرت زہراء نے سونے سے پہلے وضو کرکے سورۂ توحید کو تین مرتبہ پڑھ کر قرآن ختم کرنے کا ثواب حاصل کیا۔
2۔ تمام انبیاء کی شفاعت حاصل کرنا
روایت میں ہے: ’’سبحان ربک رب العزۃ، اما یسفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین‘‘، تین مرتبہ پڑھنے سے تمام انبیاء کی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔
3۔ تمام مومنین کی مغفرت کے لیے دعا کرنا
تین مرتبہ پڑھیں: ’’اللہم اغفر للمؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات الاحیا منهم والاموات‘‘
4۔ حج و عمرہ کا ثواب حاصل کرنا
دعائیہ کلمات پڑھیں: ’’سبحان اللہ والحمد للہ لا إله إلا اللہ واللہ اکبر‘‘، اس سے حج و عمرے کا ثواب اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔
علامہ سروری نے خطبے میں واضح کیا کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت، عبادات، ولایت اور کمالات انسانی زندگی کے لیے عملی نمونہ ہیں۔ انہوں نے حاضرین سے تاکید کی کہ: یہ فضائل نہ صرف سنے جائیں بلکہ زندگی میں عمل میں لائے جائیں، تاکہ ہر مومن اپنی دنیا و آخرت سنوار سکے۔

جمعہ کے دن کا مخصوص عمل اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت
علامہ شیخ حسن سروری نے نقل کیا کہ ایک راوی امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور جمعہ کے دن کے بہترین عمل کے بارے میں دریافت کیا۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سب سے عزیز ہستی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں اور ان کے نزدیک سب سے بہترین عمل وہی ہے، جو جمعہ کے دن انجام دیا جائے۔ امام صادق علیہ السلام نے بتایا کہ پیغمبر اسلام نے حضرت زہراء کو جمعہ کے دن چار رکعت نماز ادا کرنے کی تلقین فرمائی، جس میں ہر رکعت میں مخصوص سورہ کی تلاوت کی جائے:
1۔ پہلی رکعت: سورۂ توحید، 50 مرتبہ
2۔ دوسری رکعت: سورۂ حمد کے بعد سورۂ والعادیات، 50 مرتبہ
3۔ تیسری رکعت: سورۂ حمد کے بعد سورۂ زلزال، 50 مرتبہ
4۔ چوتھی رکعت: سورۂ حمد کے بعد سورۂ نصر، 50 مرتبہ
علامہ سروری نے فرمایا کہ یہ اعمال حضرت زہرا سلام اللہ کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مقرر کیے گئے تھے اور ان پر عمل کرنے کی فضیلت بہت عظیم ہے۔ ان شاء اللہ، حضرت زہرا کے صدقے میں تمام حاجات اور مشکلات دور ہوں گی۔

دعائے طلب توفیق و برکت
علامہ سروری نے حاضرین سے دعا کروائی: پروردگار۔۔ ہمیں ائمہ طاہرین کے فرامین سن کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے اعمال کو حضرت فاطمہ زہرا کے قرب و صدقے سے قبول فرما اور ہمیں سعادت مند فرما۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہمارے جوان لڑکوں، لڑکیوں اور والدین کو ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ ان کی عزت و مقام محفوظ رکھ اور امتحانات میں کامیابیاں نصیب فرما۔ انہوں نے ملک اور خطے کی سلامتی کے لیے بھی دعا کی: اے اللہ۔۔ مدینہ اور عزیز پاکستان میں موجود مشکلات کو دور فرما، خطے کے امن و امان کو قائم رکھ، امان خراب کرنے والے سازشیوں کو نابود فرما اور امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل عطا فرما۔ آمین

خطبہ دوم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نائب امام جمعہ جامع مسجد سکردو، علامہ شیخ حسن سروری نے سورۂ کوثر کی تلاوت سے خطبۂ دوم کا آغاز کیا اور چہاردہ معصومین علیہم السلام کے اسمائے گرامی پر درود و سلام پیش کیا۔ علامہ حسن سروری نے حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے عالمِ اسلام کو تبریک و تہنیت پیش کی۔ انہوں نے صدیقۂ کبری سلام اللہ علیہا کی سیرتِ مبارکہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کی متعدد آیات ان کی عظمت، طہارت اور کمالاتِ مودّت کی کھلی دلیل ہیں۔ سیدۂ کونین کی منزلت ایسی واضح ہے کہ وہ ’’کوثر‘‘ کی حقیقی مصداق قرار پاتی ہیں۔ اس موقع پر علامہ سروری نے ایک روحانی عمل بھی سامعین کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کی رات پاکیزہ حالت میں وضو کرکے، حلال اور پاک بستر پر لیٹ کر سو مرتبہ سورۂ کوثر کی تلاوت کرے، اسے خواب میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی سعادت نصیب ہوگی۔ یہ موقعِ مسعود کے حوالے سے ایک معنوی تحفہ ہے۔

علامہ حسن سروری نے مزید فرمایا کہ آج کا دن ایک اور عظیم ہستی کی ولادت کا بھی دن ہے، وہ ہستی جسے دنیا ’’خمینی بت شکن‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ امام خمینی نے دنیا کو بتایا کہ حقیقی اسلام کیا ہے اور امریکی اسلام کیا ہے۔ انہوں نے اسلامی بیداری کی نئی راہ متعارف کروائی، مسلمانوں کو عزتِ نفس، حریت، شجاعت اور استکبار کے مقابل ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ استعمار کا ایجنڈا ہمیشہ مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور کمزور کرنے پر مبنی رہا ہے، مگر امام خمینی کی قیادت نے امت کو اصل راستہ دکھایا۔ علامہ سروری نے کہا کہ اسی استعماری دور میں 18 ممالک کے اتحاد نے صدام کی پشت پناہی کرتے ہوئے ایران پر مسلط جنگ میں بھرپور کردار ادا کیا، مگر امام خمینی کی جرأت اور مضبوط قیادت کے نتیجے میں یہ حملے پسپا ہوئے۔

آج بھی ان کی انقلابی فکر اور بصیرت کے آثار رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی صورت میں موجود ہیں۔ معصومین علیہم السلام کے بعد ایک فقیہ کی شکل میں امام خمینی اس امت کے لیے خدا کے عطا کردہ عظیم رہنما تھے، جنہوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ اسلامی نظام کیا ہوتا ہے۔ آخر میں علامہ سروری نے دعا کی کہ بارالٰہا۔۔ امام خمینی کو ان کے آباء و اجداد کے ساتھ محشور فرما۔ ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ سروری نے جنرل فیض حمید کے احتساب کے تناظر میں زور دیا کہ ہر ادارے کو اپنی صفوں میں موجود کرپٹ عناصر کا بےرحمانہ احتساب کرنا چاہیئے۔ عدلیہ، پارلیمنٹ، پولیس، صحت اور تعلیم سمیت تمام اداروں میں چھپی بدعنوانیوں کو سامنے لانا ضروری ہے، تاکہ ملک کے نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لہٰذا حکمرانوں، پارلیمنٹیرینز، سیاستدانوں اور عوام سب کو اس ملک کی بہتری کے لیے سنجیدہ سوچ اپنانی ہوگی۔

بلتستان کے حوالے سے انہوں نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ کچھ حلقے بلتستان کو اپنا حصہ نہیں سمجھتے، مگر دعویٰ کرتے ہیں کہ زمین اور معدنیات ان کی ہیں۔ علامہ سروری نے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان کی زمین ہو یا معدنیات، اس پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ ''ہماری قوم متحد ہے اور نہ زمین دیں گے، نہ معدنیات۔'' علامہ شیخ حسن سروری نے خطبے کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے گلگت بلتستان کی انتظامی صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نگراں وزیراعلیٰ کا تقرر ہوچکا ہے، لیکن تاحال کابینہ کی تشکیل نہیں ہو پائی۔ امید ظاہر کی کہ جلد از جلد کابینہ کا اعلان کیا جائے، تاکہ خطے کے اہم معاملات تعطل کا شکار نہ ہوں۔ سردیوں کی شدت اور بعض محکموں میں چھٹیوں کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ سروری نے تین مختلف گروہوں کے نام تین اہم پیغامات دیے۔

سب سے پہلے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان مہینوں میں اپنے بچوں خصوصاً نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں پر خصوصی نظر رکھیں۔ انہیں ٹیوشن کے لیے بھیجتے وقت احتیاط کریں اور یہ خیال رکھیں کہ کہیں بے احتیاطی کے باعث دین اور دنیا دونوں متاثر نہ ہو جائیں۔ انہوں نے خصوصاً بیٹیوں کے معاملے میں تاکید کی کہ انہیں غیر ضروری طور پر، خاص طور پر رات کے وقت، گھر سے باہر نہ بھیجا جائے۔ دوسرا خطاب نوجوانوں سے تھا۔ علامہ سروری نے نہایت پدرانہ انداز میں نصیحت کی کہ موبائل فون کو مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں، اسے وقت کے ضیاع یا بے راہ روی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اپنی عزت و وقار کا پاس رکھیں، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور وہ کام نہ کریں، جو ان کی شخصیت یا خاندان کی ساکھ کے منافی ہوں۔ والدین کی اطاعت کو کامیابی کا بنیادی راز قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ جو نوجوان گھریلو نصیحتوں کو اہمیت دیتے ہیں، کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔

تیسری نصیحت ٹیوشن سینٹرز اور ان کے اساتذہ کے نام تھی۔ علامہ سروری نے التجا کی کہ یہ مراکز محض کمائی کا ذریعہ نہ ہوں، بلکہ اساتذہ طلبہ کو اپنے بچوں کی طرح سمجھ کر ان کی تربیت اور اخلاقی نشوونما کا بھی خیال رکھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رزق دینے والی ذات خدا ہے، لہٰذا تعلیم کو خلوصِ نیت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیا جائے۔ آخر میں علامہ سروری نے سکردو کی انتظامیہ کو متوجہ کیا کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی شہر نسبتاً خالی ہو جاتا ہے اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رات کے اوقات میں بازاروں اور رہائشی علاقوں میں سخت نگرانی رکھی جائے، تاکہ عوام اطمینان کے ساتھ اپنے معمولات انجام دے سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حضرت زہرا سلام اللہ علیہا علامہ شیخ حسن سروری نے علامہ سروری نے کہا سلام اللہ علیہا کی گلگت بلتستان کی انہوں نے کہا کہ نے فرمایا کہ علیہ السلام ہوئے فرمایا جمعہ کے دن السلام کے اعلان کیا کرتے ہوئے شکر یہ کہ کی تلاوت کی ولادت کرتے ہیں سے پہلے کے ساتھ ہے اور کے بعد دعا کی کے لیے پیش کی کیا کہ کے نام کا ذکر نہ ہوں

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی