سیدہ فاطمۃ الزہرا (س) کی ذات صنف نسواں کیلیے بہترین اسوہ حسنہ ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
جیکب آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو دو جہانوں کی عورتوں کی سردار قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی ذات اقدس عالم انسانیت خصوصاً صنف نسواں کے لیے بہترین اسوہ حسنہ اور حقیقی رہنماء ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپؑ کو دو جہانوں کی عورتوں کی سردار قرار دیا۔ آپ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے احترام میں سرورِ کائناتؐ خود کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد میں جشن میلاد حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر محسن علی لغاری کا نکاح بھی اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا آغاز مولانا عبدالہادی گولاٹو کی جانب سے حدیثِ کساء کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد عرفان علی درویش اور غلام شبیر پنجتنی نے بارگاہ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے اس موقع پر نکاح کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نکاح ایک مقدس رشتہ ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نسل انسانی کی بقاء کو جاری رکھتا ہے۔ باقی تمام رشتے انسان کے اختیار کے بغیر بنتے ہیں، جیسے ماں، باپ، اولاد کا رشتہ یہ سب خالق کائنات کی جانب سے طے ہوتے ہیں، مگر شریک حیات کے انتخاب کا حق مرد و عورت دونوں کو مکمل طور پر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام میں خواتین کی مرضی کے بغیر ان کا رشتہ طے کرنا جائز نہیں۔ اسلام نے عورت کو عزت، اختیار اور مکمل احترام کے ساتھ شریک حیات کے انتخاب کا حق دیا ہے۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے محسن علی لغاری اور ان کے اہلخانہ کو نکاح کی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس رشتے کو خیر و برکت، محبت اور سکون کا ذریعہ قرار دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فاطمۃ الزہرا علامہ مقصود ڈومکی نے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔