سماج وادی پارٹی کے صدر نے کہا کہ پہلے بی جے پی کے بلڈوزر سے انصاف ملتا تھا تو اب بلڈوزر کیوں نہیں چل رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے گریٹر نوئیڈا کے بسرکھ گاؤں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جگت سنگھ بھاٹی دیہی ٹورنامنٹ کے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں ہونے والی تمام غیر قانونی سرگرمیاں بی جے پی کے ارکان انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے کچھ کریں تو بلڈوزر استعمال کیا جاتا ہے۔ اکھلیش یادو نے طنزیہ ریمارک کیا کہ جب سے کف سیرپ کا معاملہ سامنے آیا ہے، بلڈوزر ڈرائیور بلڈوزر کو پیچھے چھوڑ کر فرار ہوگیا ہے۔ اب وزیراعلٰی کے پاس نہ ڈرائیور ہے نہ چابی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بلڈوزر سے انصاف ملتا تھا تو اب بلڈوزر کیوں نہیں چل رہا، انہوں نے کہا کہ بلڈوزر کام نہیں کر رہا ہے کیونکہ کف سیرپ کیس میں اسی ذات کے لوگ شامل ہیں جو اقتدار کے سب سے اوپر ہیں۔

دراندازی اور بنگلہ دیشیوں کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ کوئی درانداز نہیں ہے۔ اگر بی جے پی حکومت 11 سال بعد بھی دراندازوں کو تلاش کر رہی ہے تو حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ انہوں نے ایس آئی آر پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی اے کے ارکان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ ووٹ دینے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کا آدھار کارڈ کھو جائے گا اور انہیں ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے، ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے، معیشت تباہ ہو رہی ہے، صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں۔ فلم سٹی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی حکومت میں بہت سے فنکار ہیں تو انہیں فلم سٹی کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کے لئے ہم اور ملک کے عوام بیلٹ کے ذریعے ووٹ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، جرمنی، جاپان اور دیگر سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک بیلٹ پیپر کو اپنا رہے ہیں کیونکہ ان کے ممالک میں بھی ای وی ایم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ اپوزیشن کی فعالیت سے بی جے پی کی نیند اڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ سماج وادی پارٹی کے ارکان نے اپنا ووٹ حاصل کیا ہے، جو غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار والوں کے پاس ہے۔ عوام چوکس ہے اور اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے جس کی وجہ سے عام لوگ اپنے ووٹ کا اندراج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم، انقلاب زندہ باد، اور "جے ہند" جیسے نعرے لگا کر ملک کے عظیم انقلابیوں بشمول بھگت سنگھ، مہاتما گاندھی اور سبھاش چندر بوس نے آزادی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ان مسائل کو لے کر ہر جگہ تنازعہ کرتی ہے، یہ قوم پرست جماعت نہیں بلکہ قومی تنازعات کی جماعت ہے۔ اکھلیش یادو نے نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم دریائے گنگا کو صاف کرنا چاہتے ہیں جبکہ گنگا کی صفائی نہیں ہوئی، انہوں نے گنگا کی صفائی کے لئے بجٹ کو صاف کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اکھلیش یادو نے بی جے پی رہے ہیں رہی ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار