وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے، سراج الحق
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پشاور میں خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق امیر کا کہنا تھا کہ ملک اور قوم کو درپیش مسائل اور مشکلات سے نکالنے کے لئے سیرت، کردار اور اعلی اخلاقی اوصاف کی حامل قیادت وقت کی اولین ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک اور قوم کو درپیش مسائل اور مشکلات سے نکالنے کے لئے سیرت، کردار اور اعلی اخلاقی اوصاف کی حامل قیادت وقت کی اولین ضرورت ہے، بدقسمتی سے آج ہمارے پارلیمنٹ میں ایسے نمائندے پہنچ چکے ہیں جن کا ضمیر نوٹ دیکھ کر بدل جاتا ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے ایوان میں سپیکر قومی اسمبلی نے جب اعلان کیا کہ مجھے کچھ رقم ملی ہے اگر کسی کی ہو تو وہ رابطہ کرلیں اس اعلان کے ساتھ ہی ہال میں ممبران قومی اسمبلی کی قلیل تعداد کے باوجود ایک درجن ممبران نے ہاتھ کھڑے کئے کہ میرے پیسے گرے ہیں یہ بظاہر ایک معمولی واقعہ لگ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ واقعہ ہمارے اس پورے سسٹم پر بدنما داغ کی عکاس ہے کہ جن ممبران نے قوم کے لئے قانون سازی کرنی ہے ان کی ضمیر اور اخلاقی معیار کا یہ عالم ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ممتاز ماہر تعلیم معراج الدہن خان ایڈوکیٹ مرحوم کے تعلیمی ادارے اقراء انسٹی ٹیوٹ آف سائینس اینڈ ہیومینٹی جہانگیرہ ضلع نوشہرہ کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانووکیشن سے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالواسع اور ادارے کے سی ای او ڈاکٹر سلمان فاروق سمیت دیگر ماہرین تعلیم نے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی آرٹیکل 25A کے مطابق میٹرک تک ہر بچے کو تعلیم مہیا کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے صوبے میں 50 لاکھ بچے والدین کی غربت اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار اس حد تک گرچکا ہے کہ خود سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کرام نے بھی اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں کے بجائے نجی تعلیمی اداروں میں داخل کیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا زیادہ بوجھ نجی تعلیمی اداروں نے اٹھارکھا ہے۔ مقررین نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارا عدالتی نظام بھی انتہائی خراب تر ہے اور اس وقت 22 لاکھ سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیرالتواء ہیں جس سے ہمارے ملک میں انصاف کے نظام کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا بدترین بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے جبکہ صوبے میں گزشتہ 13سالوں سے برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دوسال سے صرف یک نکاتی ایجنڈا قیدی کی رہائی پر گامزن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سرکاری تعلیمی اداروں جماعت اسلامی نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔