پشاور میں خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سابق امیر کا کہنا تھا کہ ملک اور قوم کو درپیش مسائل اور مشکلات سے نکالنے کے لئے سیرت، کردار اور اعلی اخلاقی اوصاف کی حامل قیادت وقت کی اولین ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک اور قوم کو درپیش مسائل اور مشکلات سے نکالنے کے لئے سیرت، کردار اور اعلی اخلاقی اوصاف کی حامل قیادت وقت کی اولین ضرورت ہے، بدقسمتی سے آج ہمارے پارلیمنٹ میں ایسے نمائندے پہنچ چکے ہیں جن کا ضمیر نوٹ دیکھ کر بدل جاتا ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے ایوان میں سپیکر قومی اسمبلی نے جب اعلان کیا کہ مجھے کچھ رقم ملی ہے اگر کسی کی ہو تو وہ رابطہ کرلیں اس اعلان کے ساتھ ہی ہال میں ممبران قومی اسمبلی کی قلیل تعداد کے باوجود ایک درجن ممبران نے ہاتھ کھڑے کئے کہ میرے پیسے گرے ہیں یہ بظاہر ایک معمولی واقعہ لگ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ واقعہ ہمارے اس پورے سسٹم پر بدنما داغ کی عکاس ہے کہ جن ممبران نے قوم کے لئے قانون سازی کرنی ہے ان کی ضمیر اور اخلاقی معیار کا یہ عالم ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ممتاز ماہر تعلیم معراج الدہن خان ایڈوکیٹ مرحوم کے تعلیمی ادارے اقراء انسٹی ٹیوٹ آف سائینس اینڈ ہیومینٹی جہانگیرہ ضلع نوشہرہ کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانووکیشن سے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر عبدالواسع اور ادارے کے سی ای او ڈاکٹر سلمان فاروق سمیت دیگر ماہرین تعلیم نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی آرٹیکل 25A کے مطابق میٹرک تک ہر بچے کو تعلیم مہیا کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے صوبے میں 50 لاکھ بچے والدین کی غربت اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار اس حد تک گرچکا ہے کہ خود سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ کرام نے بھی اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں کے بجائے نجی تعلیمی اداروں میں داخل کیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا زیادہ بوجھ نجی تعلیمی اداروں نے اٹھارکھا ہے۔ مقررین نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارا عدالتی نظام بھی انتہائی خراب تر ہے اور اس وقت 22 لاکھ سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیرالتواء ہیں جس سے ہمارے ملک میں انصاف کے نظام کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا بدترین بدامنی کی لپیٹ میں ہے اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے جبکہ صوبے میں گزشتہ 13سالوں سے برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دوسال سے صرف یک نکاتی ایجنڈا قیدی کی رہائی پر گامزن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرکاری تعلیمی اداروں جماعت اسلامی نے کہا کہ کے ساتھ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت