چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ای سٹیمپ پیپر کے اجرا اور لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ای سٹیمپ پیپر کے اجرا اور لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 8 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ای سٹیمپ پیپر کے اجرا اور لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس منعقد ہوا۔ جسمیں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن، ڈائریکٹر آئی سی ٹی رابعہ اورنگزیب، آئی سی ٹی اور سی ڈی اے کے متعلقہ افسران جبکہ ڈی جی پی ایل آر اے اور انکی ٹیم نے بزریعہ زوم لنک شرکت کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آئی سی ٹی اور پی ایل آر اے کے درمیان معاہدے کے تحت ای-اسٹامپ پیپر کے اجرا کے حوالے سے بیشتر مراحل مکمل کرلئے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ای سٹامپ کے سافٹ ویئر اور ٹیسٹنگ کے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں ای-اسٹامپ پیپر کے نظام کو ون لنک کے ساتھ منسلک کرلیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ای سٹامپ کے نان جوڈیشل پیپر کی اسلام آباد میں لانچنگ جلد کر دی جائے گی۔ اسی طرح اگلے مرحلہ میں جوڈیشل پیپرز کے اجرا پر کام کا آغاز کیا جائیگا۔اجلاس میں آئی سی ٹی اور سی ڈی اے میں ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتک 24 موضع جات کی ڈیجیٹائزیشن مکمل کی جاچکی ہے جبکہ باقی ماندہ 11 موضع جات میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچ جائیگا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سی ڈی اے کے اسٹیٹ ونگ کے تمام ریکارڈ کی سکینگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ بلڈنگ کنٹرول کے ریکارڈ کی سکینگ جاری ہے اور ریکارڈ کی سکینگ کے بعد ریکارڈ کی باقاعدہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل مکمل کرلیا جائے گا۔ اسی طرح شہریوں کی آسانی اور اپنے لینڈ ریکارڈ کی رسائی کیلئے موبائل ایپ بھی تیار کی جاچکی ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا گیا کہ اس اقدام سے شہریوں کو اراضی سے متعلق معاملات میں شفافیت اور بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ڈیجیٹل اسلام آباد وژن کے مطابق ان اقدامات سے اسلام آباد شہر میں کیش لیس اکانومی کو فروغ حاصل ہوگا۔ اسی طرح شہریوں کو لین دین، پراپرٹیز کے ٹرانسفر، انتقال، خرید و فروخت وغیرہ کے سلسلہ میں آسانی ہوگی۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ شہریوں کی سرمایہ کاری اور انکی جائیداد کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کیلئے یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ای-گورننس ماڈل کو اپنانا اور سروس ڈیلیوری میں مزید بہتری لانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کو بہتر سے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلی پور، ریپ کا شکار طالبہ حاملہ ہوگئی، پرنسپل سمیت 4 افراد کیخلاف مقدمہ درج علی پور، ریپ کا شکار طالبہ حاملہ ہوگئی، پرنسپل سمیت 4 افراد کیخلاف مقدمہ درج وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کے وفد کی ملاقات گڈز ٹرانسپورٹرز کا آج سے غیر معینہ مدت کیلئے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان پی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگیاں، پبلک اکاونٹس کمیٹی نے 300ملین کی ریکوری کرلی مرحوم عرفان صدیقی کی خالی نشست پر عابد شیر علی بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہو گئے فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میلنگ ہے ،یہ لوگ پھر کسی کاندھے کے ذریعے اقتدار چاہتے ہیں، طلال چوہدریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے ڈیجیٹائزیشن کے کی ڈیجیٹائزیشن لینڈ ریکارڈ کی پیپر کے اجرا کے حوالے سے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔