اسلام آباد میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251208-08-28
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈی آئی جی اسلام آباد نے جرائم میں ملوث ہونے پر غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیدیا۔ ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا سمیت تمام ایس ایچ اوز نے شرکت کی۔ ڈی آئی جی نے شہر کی سیکورٹی اور عوام کے تحفظ کے لیے سخت احکامات جاری کیے اور غیر قانونی مقیم افغانیوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکی افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں، قبضہ مافیا، غیر قانونی اسلحہ اور منشیات فروشوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، ایسے عناصر کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ محمد جواد طارق نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث متحرک گینگز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، کار و موٹر سائیکل چوری میں ملوث گروہوں کے خلاف موثر کارروائیاں کی جائیں، شہر میں گشت اور چیکنگ کو بامقصد بنایا جائے، شہریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ڈی ا ئی جی میں ملوث کے خلاف
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک