’کوئی ندا یاسر کو بتائے کہ ہم کس حال میں کام کرتے ہیں‘، ڈیلیوری رائیڈرز نے اینکر سے اعلانیہ معافی کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان ندا یاسر فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز سے متعلق اپنے حالیہ بیان کے باعث ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔
گزشتہ دنوں ندا یاسر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز اکثر ڈیلیوری کے وقت ’چینج‘ نہیں لاتے، ان کا کہنا تھا کہ آپ اپنی مرضی سے ان کو ٹپ دے دیں تو وہ اور بات ہے لیکن اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو میں ڈرائیور کو بلاتی ہوں اور کہتی ہوں جا کر کھلے پیسے لے کر آؤ۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیلیوری والوں کے پاس چینج نہ ہونے پر بدنیتی کا الزام، ندا یاسر کو لوگوں نے آڑے ہاتھوں لےلیا
ندا یاسرکے اس بیان نے فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کے حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ انہوں نے ردعمل دیتے ہوئے نِدا یاسر سے علانیہ معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
View this post on Instagram
A post shared by TOUQEER.
ان کا کہنا ہے کہ محنت کش طبقات کے بارے میں ایسے تضحیک آمیز الفاظ کہنا نامناسب اور تکلیف دہ ہے۔ ایک رائیڈر نے کہا کہ ’ندا آرام سے شو میں بیٹھی چائے پیتی ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ ہم روزانہ کن حالات میں کام کرتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے رائیڈر کی دل آزاری ہوتی ہے، رائیڈر کے پاس آپ جیسا سکون نہیں ہوتا، ایک ڈیلیوری کے بعد اس کو دوسری کی فکر ہوتی ہے۔ آپ کو یہ سوچنا چاہیے کہ بارش ہو یا بیماری ہر صورت میں وہ آپ تک پہنچتا ہے۔ آپ کو اس بیان پر مارننگ شو میں آ کر معافی مانگنی چاہیے۔
سوشل میڈیا صارفین نے بھی رائیڈرز کی حمایت کرتے ہوئے نِدا یاسر کے بیان کی مذمت کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ لوگ سخت گرمی اور سردی میں کام کرتے ہیں، ایسے محنت کشوں کے بارے میں اس طرح بات کرنا افسوسناک ہے‘۔ جبکہ ایک اور نے تجویز دی کہ ’تمام رائیڈرز کو ندا کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فوڈ ڈیلیوری فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز مارننگ شو ندا یاسر ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فوڈ ڈیلیوری فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز ندا یاسر ویڈیو وائرل ندا یاسر
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔