غداروں کی ہماری قوم میں کوئی جگہ نہیں، فلسطین کی مقاومتی کمیٹی کا صیہونی ایجنٹوں کو انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں فلسطین کی مزاحمتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ہماری قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مزاحمتی کمیٹی نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ صیہونی ایجنٹ اور کرائے کے قاتل "یاسر ابوشباب" كا قتل، ہر اس شخص کے لئے ایک واضح پیغام ہے جو اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ صیہونی رژیم کے ایجنٹوں اور کرائے کے فوجیوں کے منصوبے کمزور و بکھرے ہوئے ہیں، چاہے اسرائیل کا میڈیا انہیں نمایاں کر کے ہی پیش کیوں نہ کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ صیہونی فوج کے زیر اثر علاقے میں یاسر ابوشباب کی ہلاکت، اسرائیل کی نااہلی و ناکامی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ہی ایجنٹوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ یہ قدم اس امر کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ دشمن کے ساتھ تعاون کی دلدل میں پھنسنے والے ہر شخص کے لئے، یقینی موت، ذلت اور رسوائی ہے۔ ایسے غداروں کے لئے فلسطینی قوم میں کوئی جگہ نہیں۔
مزاحمتی کمیٹی نے مزید کہا کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ہماری قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرے۔ اسرائیل کے ہر ایجنٹ کا حشر یاسر ابو شباب جیسا ہی ہو گا۔ جو لوگ اسرائیل کے لئے جاسوسی کر رہے ہیں وہ اپنی اصلاح کرتے ہوئے فلسطینی دھارے میں لوٹ آئیں۔ ملت فلسطین اور مقاومت اسلامی کے دروازے ہر اس شخص کے لئے کھلے ہیں جو اسرائیل کی جاسوسی سے ہاتھ کھینچنا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز صیہونی میڈیا نے رپورٹ دی کہ غزہ میں اسرائیل نواز گروہ کا سرغنہ یاسر ابوشباب نامعلوم ذرائع کے ہاتھوں مارا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کے کے ساتھ کے لئے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔