Express News:
2026-06-02@22:47:38 GMT
ملک میں کاروں کی درآمدات میں 30.78 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
رواں مالی سال 2025-26ء کے پہلے 4 ماہ کے دوران ملک میں کاروں کی درآمدات میں 30.78 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر 2025 کے دوران درآمدات کی مالیت 113 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جولائی تا اکتوبر 2024 کے دوران کاروں کی درآمدی مالیت 86.
اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے ابتدائی چارمہینوں کے دوران کاروں کی ملکی درآمدات میں 26.6 ملین ڈالر یعنی 30.78 فیصد کی بڑھوتری ریکارڈ کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران کاروں کی مالی سال
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔