سری لنکا امداد کیلئے بھارتی ہٹ دھرمی انسانیت کے مشن میں رکاوٹ ہے: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی مشن میں بھارت رکاوٹ بن گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت مسلسل پاکستان کی جانب سے سری لنکا کو بھیجی جانے والی انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ پاکستان کا خصوصی طیارہ گزشتہ 60 گھنٹوں سے بھارت کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ ملنے کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارت نے 48 گھنٹے بعد جو جزوی کلیئرنس دی وہ عملی طور پر ناقابلِ استعمال تھی۔ نہایت محدود دورانیے کے لیے اجازت دی گئی اور واپسی کے سفر کے لیے کوئی منظوری نہیں دی گئی، جس سے ہنگامی امدادی مشن شدید متاثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کے بھائی چارے کے جذبے کے تحت فوری امداد پہنچانے کے لیے پْرعزم ہے، تاہم بھارتی ہٹ دھرمی انسانیت کے اس اہم مشن کی راہ میں کھڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔