عراقی وزیر خارجہ سے امریکی ڈپلومیٹ کی ملاقات، ایران گفتگو کا مرکز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اس دوران شام کی صورتحال اور دیگر علاقائی سیکورٹی چیلنجز پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم خطے میں ایران کا کردار اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے مثبت تعاون کی ضرورت کا خصوصی جائزہ لیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریكی ڈپٹی سیکرٹری خارجہ "مائیکل ریگاس" نے بغداد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عراقی وزیر خارجہ "فواد حسین" سے ملاقات كی۔ ملاقات میں خطے میں کشیدگی کی کمی پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکہ و عراق کے باہمی تعلقات کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ علاقائی اور بین الاقوامی امور بھی اس گفتگو کا مرکز رہے۔ بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لئے سفارتی راستوں کو اختیار کرنے کا عزم کیا۔ اس ملاقات میں ایران خاص طور پر توجہ کا مرکز رہا۔ دونوں اطراف نے چیلنجز سے نمٹنے اور تہران سے متعلق کشیدگی کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مفاہمت پیدا کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس دوران شام کی صورتحال اور دیگر علاقائی سیکورٹی چیلنجز پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم خطے میں ایران کا کردار اور استحکام برقرار رکھنے کے لئے مثبت تعاون کی ضرورت، توجہ کا مرکز رہا۔ اس پیشرفت پر عراقی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ ملاقات بغداد کی غیر ملکی تعلقات میں توازن قائم کرنے اور خاص طور پر ایران کے ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا مرکز
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔