ڈیرہ، کوٹلی امام حسینؑ اور ناجائز قابضین (تاریخی پس مظر)
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: 18ویں صدی کے وسط میں محبان آلِ محمد ﷺ نے تعزیے بنائے اور یوم عاشورہ کو شہر سے باہر لے گئے تو اس ویران جگہ جہاں پر چاہ بھی موجود تھا آرام کرنے کی خاطر قیام کیا تو اس وقت کبڑا فقیر جو اس زمین پر رہ رہا تھا جو خود محب آلِ محمد ﷺتھا، فوراً نواب شیر محمد کے پاس گیا اور تمام روئیداد بیان کی، جس پر اس نواب نے فوراً سواری تیار کی اور موقع پر پہنچا، عرض گزار ہوا کہ کیا آپ کو امام حسینؑ کا غم منانے کے لیے یہ زمین ہدیہ کر دوں۔؟ جس پر اس وقت کے اہل تشیع عمائدین نے حامی بھری جس کی خاطر اس نے یہ زمین امام حسینؑ کے لیے مختص کر دی۔ خصوصی رپورٹ
کوٹلی امام حسینؑ کی اراضی 18ویں صدی عیسوی میں اس وقت کے پنجاب کی ریاست منکیرہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے والی نواب شیر محمد خان سدوزئی نے کبڑا ولد مظہرانی قوم فقیر جیلانی کو بنجر غیر آباد جہاں ایک چاہ (کنواں) تھا، (جو رفتہ رفتہ خشک ہوگیا)، رہن اور کاشت کی خاطر دی۔ جو کہ آلِ محمدﷺ سے عقیدت اور محبت رکھنے والا گھرانہ تھا۔ ایام عزاء میں ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے لوگ نواسہ رسول اللہﷺ سے عقیدت کے لیے لکڑی اور گتے کے تعزیئے اور شبیہات روضہ امام حسینؑ تیار کرتے تھے، اس زمانے میں مشترکہ ہندوستان ہوتا تھا تو تمام مسلمان بلا تفریق اہل تشیع و اہلسنت اس میں عقیدت رکھتے تھے اور مجالس اور جلوس میں شرکت کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ہندو بھی عزاداری کے پروگراموں میں دور سے شرکت کرتے اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے تھے اور یوم عاشورہ کو یہ تعزیئے اور شبیہات شہر سے باہر غیر آباد جگہ پر لے جاکر دفن کیے جاتے تھے۔
18ویں صدی کے وسط میں محبان آلِ محمدﷺ نے تعزیئے بنائے اور یوم عاشورہ کو شہر سے باہر لے گئے تو اس ویران جگہ جہاں پر چاہ بھی موجود تھا، آرام کرنے کی خاطر قیام کیا تو اس وقت کبڑا فقیر جو اس زمین پر رہ رہا تھا، جو خود محب آلِ محمدﷺ تھا، فوراً نواب شیر محمد کے پاس گیا اور تمام روئیداد بیان کی، جس پر اس نواب نے فوراً سواری تیار کی اور موقع پر پہنچا، عرض گزار ہوا کہ کیا آپ کو امام حسینؑ کا غم منانے کے لیے یہ زمین ہدیہ کر دوں۔؟ جس پر اس وقت کے اہل تشیع عمائدین نے حامی بھری، جس کی خاطر اس نے یہ زمین امام حسینؑ کے لیے مختص کر دی۔ اس زمین پر ایک حد بندی قائم کی گئی اور چار دیواری اور احاطہ قائم کیا گیا، جس میں ایک کمرہ بنایا گیا، جہاں تبرکات رکھے جانے لگے۔ اس چار دیواری و کمرے کو اس وقت کی دیسی زبان میں کوٹھی امام حسینؑ پکارا جانے لگا اور بعد ازاں کوٹلی امام حسینؑ مشہور ہوگیا۔
آبادی بڑھنے کے باعث اور چند افراد کی فوتگی پر انہیں بھی کوٹلی امام حسینؑ کے قرب میں دفن کیا جانے لگا، جس کے باعث یہاں قبرستان کا قیام بھی عمل میں آگیا۔ 1878ء کی جمع بندی اور محکمہ مال کے ریکارڈ میں ڈیرہ نواب شیر محمد خان نے قطعہ زمین 327 کنال 9 مرلے چاہ کوٹلی امام حسینؑ کے نام سے وقف کرکے سالم زمین اس وقت قمر علی ولد کبڑا فقیر کے حوالے کر دی۔ جس میں 152 کنال برائے مدفن تابوت و تعزیہ امام حسینؑ 152 کنال برائے قبرستان اور 23 کنال 9 مرلے برائے خاکروب و خادمین مختص کی گئی۔ عزاداری امام حسینؑ کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور بعد ازاں 18ویں صدی کے آخر میں اس کمرے کی جگہ پر شبیہ روضہ امام حسینؑ تعمیر کی گئی، جو آج تک قائم ہے اور مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ 19ویں صدی کے اوائل میں کوٹلی امام حسینؑ میں ایک چھوٹی سی عیدگاہ تعمیر کی گئی، جس کا نام عیدگاہ جعفریہ رکھا گیا۔
شروعات میں یہ مقام شہر سے باہر اور غیر آباد جگہ تھی، پھر رفتہ رفتہ آبادی بڑھنے اور ڈیرہ تا بنوں کے لیے یہ راستہ بطور گزرگاہ استعمال ہونے لگا، جو بعد ازاں پختہ سڑک بننے سے گنجان آباد ہوئی اور اس سڑک کے اطراف کی زمینوں کی مالیت بڑھ جانے کے باعث یہ زمین قبضہ مافیا اور اپنے اور غیروں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی۔ جس پر اوائل میں شیعہ افراد نے کوٹلی امام حسینؑ کے احاطے کے اطراف میں کچے جھونپڑے اور مکانات بنانا شروع کیے، جس کی دیکھا دیکھی اغیار بھی قبضہ کرنا شروع ہوگئے۔ اس وقت اس کے نگہبان اہل تشیع کے چند لیڈران تھے، جو اس کو اجارہ اور کاشت پر آگے ٹھیکے پر دیتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد شیعہ عمائدین میں کاشت اور اجارہ کی رقم کو لے کر تنازعہ کھڑا ہوگیا اور دیگر شیعہ اکابرین کو کاشت و دیگر رقوم کا حساب کتاب مہیا نہ کرنے پر نگہبانوں کے خلاف ہوگئے اور یہ آواز بلند ہونے لگی کہ اگر اس کے نگران ہم نہیں تو کوئی دوسرا بھی نہیں اور یہ کوٹلی امام حسینؑ کو محکمہ اوقاف کے سپرد کرنے کی بازگشت ہونے لگی۔
جس پر اس وقت کی روحانی و برگزیدہ ہستی خطیب سید غلام زین العابدین نقوی نے دوراندیشی کے باعث اس اقدام سے باز رہنے کو کہا کہ یہ مسئلہ اور اختلافات آپس میں بیٹھ کر سلجھانے اور اوقاف کے سپرد نہ کرنے پر زور دیا، مگر بے سود، اور یوں یہ وقف اراضی کوٹلی امام حسین ؑمحکمہِ اوقاف کے پاس پہنچ گئی۔ عید گاہ جعفریہ کی شکست و ریخت کے باعث خطیب سید غلام زین العابدین نقوی کی سرپرستی میں عیدگاہ کی تعمیر نو کے لیے محکمہ اوقاف کو خط و کتابت کی گئی، جس کے نتیجہ میں پہلے 10 ہزار بعد ازاں 20 ہزار روپے سکہ رائج الوقت مرحلہ وار اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں وزیر اوقاف و مذہبی امور مولانا کوثر نیازی سے منظور ہوا۔ مگر پھر ڈسٹرکٹ شیعہ ینگ مین کے صدر سید حسن علی کاظمی اور سرپرست اعلیٰ بشیر حسین زیدی نے خطیب سید غلام قاسم نقوی مرکزی جامع مسجد و عیدگاہ کوٹلی امام حسینؑ کی اجازت و تعاون اور دیگر مومنین کی مالی معاونت سے موجودہ عیدگاہ جعفریہ کی تعمیر و توسیع کی گئی۔
کچھ عرصہ تو خاموشی رہی، مگر قبضہ اسی طرح روز بروز بڑھتا رہا، جس میں قبضہ گروپ کو اپنوں کی آشیرباد بھی تھی، جبکہ دیگر اکابرین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر قبضہ کرکے زمینیں آگے فروخت ہوتی رہیں۔ جس پر اکابرین بشمول خطیب سید غلام زین العابدین نقوی نے اس وقت کے وزیراعلیٰ صوبہ سرحد سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کو درخواست کی اور ناجائز قابضین کی بے دخلی کے لیے اقدامات اٹھانے کو کہا، جس پر انہوں نے سخت ایکشن لیتے ہوئے سرکاری مشینری بھیج کر تمام قبضہ شدہ عمارتوں اور گھروں کو مسمار کرنے کا حکم دیا، جب مشینری پہنچی تو اس وقت ایک اہل تشیع وکیل مع چند افراد مشینری کے آگے آگئے، قبضہ شدہ گھر و جگہوں کو مسمار کرنے اور قبضہ واگزار کرانے سے باز رکھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کوٹلی امام حسین خطیب سید غلام نواب شیر محمد شہر سے باہر اس وقت کے اہل تشیع 18ویں صدی کی خاطر کے باعث یہ زمین صدی کے کے لیے کی گئی
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)