میرپورخاص، محکمہ ریونیو میں اختیارات کا ناجائز استعمال، ریکارڈ غائب
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(نمائندہ جسارت)محکمہ ریونیو میرپورخاص کے نچلے عملے کی اختیارات کے ناجائز استعمال، ریکارڈ میں مبینہ جعلسازی اور سرکاری زمین میں ردو بدل کا سنگین انکشاف ۔میرپورخاص کے ایک رہائشی محمد ناصر ولد منشی خان نے ڈپٹی کمشنر میرپورخاص کو دی گئی اپنی تفصیلی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ تعلقہ حسین بخش مری اور تعلقہ میرپورخاص کے ریونیو عملے خصوصاً مختارکار اور سٹی سروے آفیسر نے مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ میں سنگین نوعیت کی تبدیلیاں کی ہیں، جن سے سرکاری زمین کو کمرشل مفادات کے لیے بلڈر مافیا کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے اصل ریکارڈ کی مبینہ ٹیمپرنگ 70 سالہ تاریخی ریکارڈ کو مسخ کیا گیا۔درخواست کے مطابق سروے نمبر 282، 284، 285 دیھ 109 تعلقہ حسین بخش مری کا پرانا سرکاری ریکارڈ، جو 70 سال سے محفوظ تھا اور جس میں دبئی شاپنگ مال پلاٹ نمبر 1-47 کا رقبہ 3847 اسکوائر فٹ درج تھا کو مبینہ طور پر تبدیل کرتے ہوئے اس میں سرکاری اراضی شامل کرکے رقبہ 5850 اسکوائر فٹ ظاہر کیا گیا اس کے بعد اسی مبینہ طور پر جعلسازی شدہ ریکارڈ کو وارڈ 12-A (اسسٹنٹ کمشنر کے مشکوک لیٹر کے تحت)اور پھر وارڈ 12-B (مختارکار و سٹی سروے آفیسر کی دوبارہ تبدیلی کے ذریعے) میں شامل کیا گیا جس سے ایک جائز رہائشی و کمرشل ملکیت کو ناجائز ظاہر کردیا گیا بلڈر مافیا کو مبینہ فائدہ خریدار کو سخت نقصان درخواست گزار کے مطابق انہوں نے دکان نمبر G-11 کی خریداری کے لیے 23 لاکھ روپے ادا کیے قبضہ لیا اور بقایا رقم دینے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن ریکارڈ میں غیر قانونی ردو بدل کی وجہ سے ان کی قانونی ملکیت مشکوک بنادی گئی، جبکہ بلڈر حضرات نے بعد از فروخت زمین کے ریکارڈ خود سے تبدیل کروائے۔ کمرشل کنورژن اور ریکارڈ بدلنے کا غیر قانونی عمل2019ء میں کمرشل کنورژن کی درخواستیں تعلہ حسین بخش مری کے ریکارڈ پر جمع کروائی گئیں۔لیکن بعد میں سٹی سروے اسٹاف نے غیر قانونی طور پر پورا پلاٹ وارڈ 12-B میں شامل کردیا۔وہ پلاٹ جس پر عدالتی کیس F.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سٹی سروے ا کیا جائے کے لیے وارڈ 12
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔