ضمنی گرانٹس کا آڈٹ کرایا جائے، بجٹ تیاری ایگزیکٹو کے سپرد، کرپشن کا باعث ہو سکتی ہے: آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اسلام آباد (عترت جعفری)آئی ایم ایف نے کہاہے کہ بجٹ کی منصوبہ بندی اور تیاری کے مراحل کو جس طرح سے پورا کیا جاتا ہے اس سے بجٹ کی تیاری کا تمام دائرہ ایگزیکٹو کی صوابدید ہے اور کرپشن کا باعث بن سکتا ہے،غیر حقیقت پسندانہ ریونیو تخمینہ جات ،بجٹ کی پروجیکشنز اور سیلنگ کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے،بقایہ جات کا حجم بڑھ جاتا ہے،پاکستان بجٹ کی ساکھ کمزور ہے جس کی وجہ سے متعدد میکرو اور نازک گورننس کے ایشوز پیدا ہو جاتے ہیں،ریونیو کے تخمینہ اور حاصل ہونے والے ریونیو کے درمیان تفاوت ہوتا ہے،مالی سال 2023 -24ء کی مثال دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ اس سال حکومت نے خام ریونیو وصولی کا تخمینہ 12378 ا رب روپے لگایا تھا جبکہ وصولی 12 ہزار 271 ارب روپے ہوئی کل اخراجات کے کم تخمینہ کے مقابلہ میںجبکہ حقیقی اخراجات 14ہزار57 6ارب روپے ہوئے، سفارش کی ہے کہ گزشتہ برسوں میں جو بھی میکرو فسکل اندازے لگائے گئے اور جو اصل بجٹ تخمینہ جات آئے ان کی ری کانسلیشن کی جائے، بالائی سطح سے نیچے تک بجٹنگ اور میکرو فزیکل تجزیہ جات کیے جائیں، آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ضمنی گرانٹس کا بہت زیادہ استعمال اور بجٹ پر کمزور کنٹرول سے گورننس کی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں اور کرپشن کا خطرہ الگ سے ہوتا ہے،،2024ء تیار کی جانب والی ٹیکس گیپ رپورٹ میں 3.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف نے بجٹ کی ہے اور
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔