اسلام آباد (عترت جعفری)آئی ایم ایف نے کہاہے کہ بجٹ کی منصوبہ بندی اور تیاری کے مراحل کو جس طرح سے پورا کیا جاتا ہے اس سے بجٹ کی تیاری کا تمام دائرہ ایگزیکٹو کی صوابدید ہے اور کرپشن کا باعث بن سکتا ہے،غیر حقیقت پسندانہ ریونیو تخمینہ جات ،بجٹ کی پروجیکشنز اور سیلنگ کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے،بقایہ جات کا حجم بڑھ جاتا ہے،پاکستان بجٹ کی ساکھ کمزور ہے جس کی وجہ سے متعدد میکرو اور نازک گورننس کے ایشوز پیدا ہو جاتے ہیں،ریونیو کے تخمینہ اور حاصل ہونے والے ریونیو کے درمیان تفاوت ہوتا ہے،مالی سال 2023 -24ء کی مثال دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ اس سال حکومت نے خام ریونیو وصولی کا تخمینہ 12378 ا رب روپے لگایا تھا جبکہ وصولی 12 ہزار 271 ارب روپے ہوئی کل اخراجات کے کم تخمینہ کے مقابلہ میںجبکہ حقیقی اخراجات 14ہزار57 6ارب روپے ہوئے، سفارش کی ہے کہ گزشتہ برسوں میں جو بھی میکرو فسکل اندازے لگائے گئے اور جو اصل بجٹ تخمینہ جات آئے ان کی ری کانسلیشن کی جائے، بالائی سطح سے نیچے تک بجٹنگ اور میکرو فزیکل تجزیہ جات کیے جائیں، آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ضمنی گرانٹس کا بہت زیادہ استعمال اور بجٹ پر کمزور کنٹرول سے گورننس کی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں اور کرپشن کا خطرہ الگ سے ہوتا ہے،،2024ء تیار کی جانب والی ٹیکس گیپ رپورٹ میں 3.

4 ٹریلین روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی تھی جو کہ جی ڈی پی کے 3.9 فیصد کے مساوی ہے، دریں اثناء پاکستان کے دورہ مکمل کرنے والے آئی ایم ایف کے تکنیکی وفد نے حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بجٹ تیاری میں ڈیٹا کے درست استعمال پر زور دیا، اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ضمنی گرانٹس کے آڈٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف بجٹ سازی پر تکنیکی رپورٹ جنوری میں جاری کرے گا ،آئی ایم ایف نے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد کم از کم ڈیڑھ کروڑ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جعلی رسیدوں اور ریفنڈز پر قابو پانے اور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ یا مراعات ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے تکنیکی مشن نے دو روزہ اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ بجٹ پراسیس کے اہداف پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔ دس روزہ بات چیت میں پبلک فنانس مینجمنٹ اور بجٹ سازی میں تبدیلی کے اہداف پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ حکومتی معاشی ٹیم نے آئندہ بجٹ سے قبل پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ میں ترامیم پر اتفاق کیا تاکہ بجٹ پراسیس کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس سے قبل جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کی معیشت میں کرپشن کے عنصر کو جانچنے کا کوئی قابل بھروسہ طریقہ کار موجود نہیں ہے،گورنس اور کرپشن میٹرکس پر پاکستان کی کارکردگی معیار سے کم تر درجے کی ہے، پاکستان رول آف لا ڈبلیو جی ائز انڈکس میں 100 میں سے 14.62 سکور کا حامل ہے جبکہ اوسط سکور 32.89 فیصد ہے اور یہ دوسرے کمتر درمیانی آمدن کے حامل ممالک کا ہے،شہری اس بات پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ سروسز تک رسائی لینے کے لیے اہلکاروں کو رشوت دیں ، پاکستان کا ریونیو2018ء میںجی ڈی پی کے 13 فیصد کے مساوی تھا جو 2023ء میں گر کر 11.5 ہو گیا،پاکستان میں پالیسی کی تیاری غیر ضروری دباؤ کا شکار رہتی ہے۔پاکستان کا ٹیکس کا نظام بہت ہی پیچیدہ ہے جس سے ٹیکس گزاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور تنازعات جنم لیتے ہیں اس کی وجہ سے کرپشن ہوتی ہے اور معاشی کارکردگی پر مصالحت کرنا پڑتی ہے۔ایف بی آر ایس ار او کے ذریعے اختیار کو استعمال کرتا ہے،2024 ء میں ایف بی ار نے 168 ایس آر او جاری کی ہے، خود ایف بی ار نے ٹیکس گیپ رپورٹ تیار کی جس میں 3.4 ٹریلین روپے کے ٹیکس گیپ کی نشاندہی کی گئی تھی جو کہ جی ڈی پی کے 3.9 فیصد کے مساوی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف نے بجٹ کی ہے اور

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم