کراچی کی فضا انسانی صحت کیلئے مضر قرار ، ائیر کوالٹی انڈیکس 225 ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کی فضا کو انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ تازہ ماحولیاتی اعداد و شمار کے مطابق شہر میں فضائی آلودگی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، اور کچھ دیر قبل کراچی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 225 ریکارڈ کیا گیا، جو ’انتہائی مضر‘ کیٹیگری میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سطح کی آلودگی سانس اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔
ادھر پنجاب میں بھی حکومتی اقدامات کے باوجود فضائی آلودگی میں کوئی واضح کمی نہیں آ سکی۔
لاہور اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پانچویں نمبر پر ہے، جہاں ایئر پارٹیکیولیٹ میٹرز کی سطح 198 تک پہنچ گئی ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے حالات میں بچے، بزرگ اور سانس کے مریض خصوصی احتیاط کریں، کیونکہ فضا میں شامل مضر ذرات انسانی صحت پر فوری اور طویل المدتی منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔