Daily Mumtaz:
2026-07-24@04:04:22 GMT

جی 20 ممالک نے امریکی شمولیت کے بغیر اعلامیہ منظور کر لیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

جی 20 ممالک نے امریکی شمولیت کے بغیر اعلامیہ منظور کر لیا

جنوبی افریقہ میں جی 20 رہنماؤں کے اجلاس نے ہفتے کے روز ایک اعلامیہ منظور کیا ہے، جس میں ماحولیاتی بحران اور دیگر عالمی چیلنجز پر بات کی گئی ہے، تاہم یہ اعلامیہ امریکی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا ہے، جسے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔

نجی اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اعلامیے میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے، جس کی واشنگٹن طویل عرصے سے مخالفت کرتا رہا ہے، اور اسے ’دوبارہ مذاکرات کے لیے نہیں کھولا جا سکتا‘۔

ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس منظوری کے لیے پورا سال کام کیا ہے اور گزشتہ ہفتے خاصا دباؤ رہا۔

ہفتہ وار اجلاس کی میزبانی کرنے والے صدر رامافوسا نے اس سے قبل کہا تھا کہ اعلامیے کے لیے بھاری اکثریت میں اتفاقِ رائے موجود تھا۔

4 ذرائع کے مطابق جو اس معاملے سے واقف ہیں، جی 20 کے ایلچیوں نے جمعے کے روز یہ مسودہ امریکی شرکت کے بغیر تیار کیا۔

دستاویز میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ ناپسند کرتی رہی ہے، یعنی موسمیاتی تبدیلی کی سنگینی اور اس سے نمٹنے کی بہتر حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دینا، اس میں قابلِ تجدید توانائی کے حصول کے بلند اہداف کی تعریف کی گئی اور غریب ممالک کی جانب سے قرضوں کی بھاری ادائیگیوں کے بوجھ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق زبان کا شامل کیا جانا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’سفارتی دھچکے‘ کے طور پر دیکھا گیا، جو اس سائنسی اتفاقِ رائے پر شکوک کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ عالمی حدت انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہوتی ہے، امریکی اہلکار پہلے ہی اشارہ دے چکے تھے کہ وہ اس طرح کے حوالوں کی مخالفت کریں گے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں رامافوسا نے کہا کہ ہمیں کسی بھی چیز کو پہلے افریقی جی 20 صدارت کی قدر، وقار اور اثر کم کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ان کا یہ پُر اعتماد لہجہ اگست میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران ان کے نسبتاً خاموش رویے کے برعکس تھا، جب انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے غط دعوے کو برداشت کیا تھا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، بعد میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے کیوں کہ میزبان ملک پر سفید فام اقلیت کو دبانے کے الزامات ہیں۔

جغرافیائی سیاسی تقسیم
امریکی بائیکاٹ کے باوجود رہنماؤں نے خبردار کیا کہ معاشی بحران حل کرنے میں جی 20 کا کردار جغرافیائی سیاسی تقسیم کے باعث خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

رامافوسا نے ٹرمپ کی غیر موجودگی کو کم اہمیت دی اور مؤقف اختیار کیا کہ جی 20 اب بھی بین الاقوامی تعاون کے لیے کلیدی فورم ہے۔

تاہم فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اجلاس کے دوران خبردار کیا کہ جی 20 شاید اپنے ایک دور کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے، افتتاحی خطاب میں میکرون نے کہا کہ رہنما اس میز پر ’بڑے عالمی بحرانوں کے حل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘۔

دوسری جانب، یورپی یونین کی کمشنر ارسلا وان ڈیر لین نے اپنی تقریر میں ’انحصار کے ہتھیار بننے‘ کے خطرے سے خبردار کیا، جو چین کی جانب سے توانائی کی منتقلی کے لیے ضروری نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیوں کی طرف اشارہ تھا۔

اگرچہ امریکا نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، مگر اس نے آئندہ جی 20 اجلاس میں صدارت سنبھالنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، ٹرمپ 2026 میں اگلا اجلاس فلوریڈا کے ایک گولف کلب میں منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جو ان کی ذاتی ملکیت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کی جانب کے لیے کی گئی

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل