اسلام آباد(ویب ڈیسک)دفتر خارجہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے یورپی بلاک کی جی ایس پی پلس اسکیم کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے، تاکہ پائیدار معاشی ترقی، برآمدات میں تنوع، روزگار کے مواقع اور باہمی فائدے کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر سامنے آئی، جو بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد ہوا، اجلاس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے کی، اس سے ایک روز قبل، ڈار نے برسلز میں ’چوتھے ای یو انڈو پیسیفک فورم‘ کے راؤنڈ ٹیبل سے بھی خطاب کیا تھا۔

جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کو یورپی منڈیوں میں برآمدات پر ڈیوٹی فری یا انتہائی کم ڈیوٹی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا ’جامع جائزہ‘ فراہم کیا، جو حالیہ اعلیٰ سطح کے روابط اور ادارہ جاتی تعاون سے پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت پر آگے بڑھ رہا ہے۔

دونوں فریقین نے ملاقات کے دوران مشترکہ اقدار، اقوام متحدہ کے چارٹر، کثیرالجہتی نظام اور باہمی احترام و تعاون کے اصولوں پر مبنی ’وسیع البنیاد، کثیر جہتی اور مستقبل کی شراکت داری‘ کے عزم کو دہرایا۔

بیان کے مطابق ’مکالمے نے علاقائی اور عالمی امور، جیسے جنوبی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور دیگر جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر تبادلہ خیال کا موقع بھی فراہم کیا‘۔

مزید برآں، دونوں نے امن، استحکام، پائیدار ترقی اور عالمی چیلنجز (جیسے موسمیاتی تبدیلی اور رابطوں) کے لیے مشترکہ حکمت عملیوں کی اہمیت پر زور دیا۔

پاکستان اور یورپی یونین نے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان (2019) کے تحت تعاون کو مضبوط بنانے، جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے اور مستقبل میں مشترکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

بحری خطرات
نائب وزیراعظم نے بحری سلامتی کے اہم موضوع پر اپنا بیان بھی دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ’آج کے بحری خطرات کثیر جہتی اور سرحدوں سے ماورا ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم قزاقی، دہشت گردی، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ سے لے کر بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش سائبر خطرات، سمندری آلودگی، اور ساحلی علاقوں کو متاثر کرنے والے موسمیاتی خطرات تک کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں‘۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک ساحلی ملک ہے جو اہم بین الاقوامی بحری راستوں اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ہے، جو اس کا ’پانچواں پڑوسی‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیرہ عرب پاکستان کی قومی سلامتی، علاقائی رابطوں، معاشی مضبوطی، غذائی و توانائی تحفظ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے گوادر تک ہمارے بندرگاہی شہر وسطی ایشیا کے غیر ساحلی خطے کو عالمی تجارتی نظام سے جوڑنے والے دروازے ہیں، اسی لیے پاکستان، بحری سلامتی اور معاشی ترقی کو ایک دوسرے کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بحری شعبے میں مضبوط تعاون، آگاہی، معلومات کا تبادلہ اور قبل از وقت انتباہی نظام درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا ماننا ہے کہ ایک محفوظ، مضبوط اور پائیدار بحری خطہ باہمی اعتماد، شفافیت اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سب سے پہلے، یہ ضروری ہے کہ سمندر تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے علاقے بنے رہیں، اور ہم بحری خطے میں کسی بھی قسم کی خارجیت یا بالادستی پر مبنی انتظامات سے دور رہیں۔

ڈار نے زور دیا کہ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر، علاقائی و دوطرفہ قانونی فریم ورکس اور بین الاقوامی روایتی قوانین کے تحت تعاون بڑھایا جائے، اور سمندری وسائل کو ’انسانیت کے مشترکہ ورثے‘ کے طور پر دانشمندانہ طریقے سے استعمال کیا جائے۔

پُرامن ذرائع
اسحٰق ڈار نے کہا کہ بحری تنازعات کو بین الاقوامی قانون کے مطابق پرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، رابطوں (کنیکٹیوٹی) کو لچک (ریسائلنس) کے ساتھ جوڑنا چاہیے، اور اہم بنیادی ڈھانچے اس طرح تیار کیے جائیں کہ ان میں متبادل نظام موجود ہوں تاکہ کسی ایک خطے میں رکاوٹ کا اثر پوری دنیا پر نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں بہترین طریقوں کو ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ کسی ایک علاقے میں پیدا ہونے والی خلل پوری دنیا میں پھیل نہ جائے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بحری ترقی کو بین الاقوامی تعاون اور تکنیکی حلوں پر استوار ہونا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ ’پاکستان نے اپنے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر کو مضبوط کیا ہے، جس میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور سپارکو کی مدد سے اے آئی پر مبنی جہازوں کی ٹریکنگ کو شامل کیا گیا ہے، ہم اس حوالے سے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مزید تعاون کے خواہاں ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اہم بحری ڈھانچوں کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی، ریگولیٹری تعاون اور استعداد کار میں اضافہ کے حوالے سے یورپی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کا منتظر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان اور یورپی یونین انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کہ پاکستان کے مطابق ڈار نے کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ