پاکستان کی پہلی مارکیٹ جہاں نقد رقم کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی چلے گی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ملک کا پہلا مکمل کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کے منصوبے کے تحت ایچ-9 ہفتہ وار مارکیٹ کو باقاعدہ طور پر پاکستان کی پہلی مکمل کیش لیس مارکیٹ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے ایچ-9 میں اس جدید ترین نظام کا افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں ممبر فنانس، چیف آفیسر ایم سی آئی، سی ای او زندگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندگان، سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت تاجروں اور خریداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان ریلوے میں کیش لیس نظام کا آغاز، مسافروں کے لیے ادائیگی کا جدید طریقہ متعارف
چیئرمین سی ڈی اے نے مارکیٹ کے مختلف اسٹالز پر جا کر ڈیجیٹل پیمنٹ کے ذریعے خریداری کی اور انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر حکام نے بتایا کہ کیش لیس لین دین کرنے والے صارفین کے لیے خصوصی ڈسکاؤنٹس بھی رکھے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ڈیجیٹل نظام کو اپنائیں۔
سی ڈی اے کے مطابق کیش لیس سسٹم کو جلد ہی تمام کمرشل سینٹرز، شاپنگ مالز، اسپتالوں، ہوٹلوں، ریستورانوں اور اسلام آباد ایئرپورٹ تک توسیع دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے کیش لیس اکانومی کے مراحل کو آسان بنایا جائے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت
چیئرمین رندھاوا نے ایم سی آئی، کمرشل بینکس اور اسلام آباد انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق یہ اقدام شہریوں کو جدید سہولتیں فراہم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا مکمل ڈیجیٹل اور کیش لیس شہر بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد ایچ نائن بازار کیش لیس مارکیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد ایچ نائن بازار کیش لیس مارکیٹ اسلام آباد سی ڈی اے کیش لیس
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ